کورونا سانس سے نہیں لگتا بلکہ ۔۔۔۔ امریکی سپر کمپیوٹر نے دنگ کر ڈالنے والی حقیقت سامنے رکھ دی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) بعض متاثرین میں کورونا وائرس کے اثرات کیوں زیادہ شدت اختیار کر لیتے ہیں؟ اس سوال کا جواب امریکی سپر کمپیوٹرز کے ذریعے کئے جانیوالے ایک تازہ جائزے میں سامنے آیا ہے۔ ریاست ٹینیسی کی قومی تجربہ گاہ میں محققین کے ان انکشافات کو امریکی جریدے ”بزنس ان سائڈر“ نے شائع کیاہے

جس میں بتایا گیا ہے جو کیمیکل بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے اگر وہ کسی مریض میں ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے لگے تو وہ جسم کے تنفس، پیٹ، انتڑیوں اور دماغی نظام کو غیر متوازن کر دیتا ہے۔ اس تجربے میں دنیا کا دوسرا سب سے تیز سپر کمپیوٹر بھی استعمال ہوا ہے جس میں چین کے شہر ووہان سے کرونا وائرس کے نوشدید مر یضو ں کے پھیپھڑوں سے حامل مواد کا جائزہ لیا گیا۔ کمپیوٹر نے معلوم کیا کہ کس طرح ایک صحتمند فرد کے برعکس شدید متاثرہ شخص کے جسم میں بعض مختلف طرز کی کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح محققین نے بعض صورتوں میں ان غیر معمولی تبدیلیوں کے پیدا ہونیوا لے عمل کو بنیاد بنا کر ”Brady Kinin“ کے نام سے ایک نئی تھیوری پیش کی ہے۔ اس نظریے کے مطابق کرونا وائرس سانس کی بجا ئے دوران خون سے متعلق بیماری ہے۔اس تجربہ گاہ کے سائنسد ان ڈاکٹر ڈینیل نے جریدے کو بتایا وہ ابتداء میں اس نئی دریافت پر شش و پنج میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس نئی تھیوری کے سامنے آنے معلوم ہوا کرونا وائرس جسم کے مختلف اجزاء کو متاثر کر سکتا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.