عورت کا اہم بیان سامنے آ گیا ایسا بیان دیا کہ ہر انسان کا دل خون کے آنسو رونے لگا

روزنامہ لاہور رپورٹر شفیق سندھو
اس عورت نے کہا جیسے ہی اس نے اپنی گاڑی سیالکوٹ موٹروے پر گجرانوالہ جانے کے لیے ڈالی تو ٹول پلازہ کراس کرنے کے تین کلومیٹر بعد اس کی گاڑی ایک جگہ پر پیٹرول نہ ہونے کی وجہ سے بند ہونے لگی اس کے بعد اس نے اپنی کوشش سے ہر اس شخص کو کال کرنے کی کوشش کی جس سے اسے مدد کی توقع تھی مگر کوئی اس کی مدد کے لیے اس کے پاس نہ پہنچا
یہ کہتی ہے کہ اس دن پولیس اگر مجھے پاکستانی شہری سمجھتے ہوئے اور میرے انسانی حقوق سمجھتے ہوئے میری مدد کے لیے آ جاتی تم مجھے اپنی عزت و آبرو سے محروم نہ ہونا پڑتا یہ کہتی ہے وہ درندے اس کی گاڑی کے پاس آئے اور گاڑی کے دروازے کا شیشہ کھٹکھٹانے لگے میں ڈر گئی اور مجھے شک ہوا کہ اب میرے ساتھ وہی ہونے والے جو ایک نہتے انسان کے ساتھ سنسان علاقے میں ہونا چاہیے میں نے دروازہ نہیں کھولا ان میں سے ایک شخص کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا اور دوسرے نے روڈ سے پتھر اٹھایا اور میری گاڑی کے شیشے پر دے مارا شیشہ ٹوٹ گیا اور یہ دروازہ کھول کر میرے بچوں کو اپنی طرف کھینچنے لگے میں نے ان سے بہت رکویسٹ کی آپ کو کیا چاہیے انہوں نے مجھ سے ہر وہ چیز لے لی جو انتہائی قیمتی ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت میرے لیے انتہائی اہم تھی
مجھے اور گاڑی کو لوٹنے کے بعد یہ میرے بچوں کو اٹھا کر روڈ سے نیچے کھائی میں لے جانے لگے میں نے ان سے کہا بھائی کہاں جا رہے ہیں میرے بچے میرے حوالے کرو انہوں نے کہا اگر اپنا اور اپنے بچوں کا بھلا چاہتی ہو تو ہمارے پیچھے چلی آؤ میں مجبور اور لاچار عورت کیا کرتی ان کی بات مان لی اور ان کے پیچھے چلی گئی یہ مجھے کھائی سے آگے فصلوں میں لے گئے اور میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرنے لگے جس کے لیے میں انہیں بار بار بھائی کہہ کر پکارتی رہی مگر شاید ان کے لئے بہن اور بھائی کا رشتہ کسی اہمیت کا حامل نہیں
افسوس کی دنیا ہوس پجاری ہے کسی کو جسم کی بھوک ہے یا کسی کو مال و زر کی مگر یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے بھی آخر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.