دوست کا دوست ،دوست اور دوست کا دشمن ، دشمن : وہ ایک اہم بات جس وجہ سے سعودی عرب اسرائیل کو لازماً تسلیم کرے گا ؟ ایک غیر ملکی صحافی کی دنگ کر

لندن (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مابین دوستی بھی مشہور ہے۔ ایسی صورتحال میں زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب بھی متحدہ عرب امارات کی راہ پر گامزن ہوگا۔لیکن اندرانی کی رائے کی قدرے مختلف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شاید سعودی عرب پوری طرح

کھل کر اسرائیل سے تعلقات نہیں بنائے گا۔ مشہور بھارتی صحافی سروج سنگھ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے پیچھے وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ مذہبی معاملات کی بات کریں تو مشرق وسطیٰ میں سبھی سعودی عرب کی جانب دیکھتے ہیں۔ اس وجہ سے اسرائیل کے ساتھ ماضی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، سعودی عرب کے لیے کھلے عام یہودیوں کا ساتھ دینا مشکل ہوسکتا ہے اگرچہ سیاسی طور پر سعودی کئی سالوں سے اسرائیل کے ساتھ ہے۔اندرانی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے انڈیا اور اسرائیل کے مابین ایئرلائن شروع کرنے کے لیے انڈیا کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ اسرائیل کے بارے میں سعودی رویہ کس طرح بدلا ہے، یہ اس کی ایک مثال ہے۔لیکن ہریندر مشرا ایسا نہیں سوچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ایک پرانی کہاوت ہے دوست کا دوست، دوست اور دوست کا دشمن، دشمن ہے۔ ابھی سعودی عرب اور اسرائیل دونوں کا دشمن ایران ہے۔ لہذا اس بات کا کافی امکان ہے کہ مستقبل میں بھی دونوں اکٹھے ہوں گے۔‘ان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو امریکی صدر کی پریس کانفرنس سے بھی اس کی نشاندہی ہوتی ہے۔معاہدے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ، امریکی صدر نے کہا ’اب جب ’برف‘ پگھل چکی ہے، مجھے امید ہے کہ کچھ اور عرب مسلم ممالک متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے۔‘

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.