پاکستان کے اہم ضلع کا وہ اسسٹنٹ کمشنر جسے کل اعلیٰ افسران نے سکول کے بچوں کی طرح دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑا ہونے کی سزا سنا دی ۔۔۔ ناقابل یقین تفصیلات

اسلام آباد(ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر کرک کو اسکول کے بچوں کی طرح سزا سنائی گئی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس راجہ خرم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں نادرا کے سینٹرز قائم کرنے سے متعلق نادرا حکام کی جانب سے بریفنگ دی

گئی۔اجلاس کو بچوں کے ساتھ غلط سلوک میں ملوث ملزم سہیل ایاز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے پوچھا کہ سہیل ایاز کیسے کے پی کے میں بڑا افسر تعینا ت ہوا، جس پر بریفنگ کے لیے پنجاب پولیس اور ایف آئی اے حکام کو طلب کر لیا گیا۔اجلاس میں خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں لیبر رومز کی وڈیو کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔رکن قومی اسمبلی عصمت اللہ نے کہا کہ ویڈیوز 6 ماہ پہلے وائرل ہوئیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ خواتین کے لیبر روم کی 42 ویڈیوز بنائی گئیں لیکن صرف ایک ایف آئی آر کاٹی گئی۔کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر کے پیش نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا جس پر اسسٹنٹ کمشنر کرک نے بتایا کہ ڈی سی کرک وزیر اعلی کے پی کے ساتھ میٹنگ میں ہیں۔چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے اسسٹنٹ کمشنر کرک سے کہا کہ آپ کمرے سے نکل جائیں، آپ کیوں آئے، جس پر اے سی نے کہا کہ آپ میرے ساتھ غلط سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے اے سی کرک کو سزا دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہاں دیوار کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ایم این اے مہر غلام محمد لالہ نے کہا کہ چیئرمین صاحب اتنی سزا کافی ہے، اب جانے دیں، جس پر چیئرمین کمیٹی نے اسسٹنٹ کمشنر کرک کو کمرے سے باہر جانے کی ہدایت کر دی اور پھر اے سی کرک کمرے سے باہر چلے گئے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق امریکی خاتون صحافی سنتھیا ڈی رچی نے کہا ہے کہ عورت ہو یا مرد، بچہ یا خواجہ سرا، سب کے حقوق کا برابر تحفظ ہونا چاہیے،جب عورت کے تحفظ کی بات آئے توتمام ادارے ایک پیج پرہونے چاہئیں، ان کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کو سخت سزا ہونی چاہیے ۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنتھیا ڈی رچی نے بتایا کہ میرے بارے میں یہ غلط فہمی بھی ہے کہ میں نے پاکستان میں کسی ادارے کیساتھ کام کیا، رحمان ملک کیخلاف ایف بی آئی اور امریکی سفارتخانے کو بھی اطلاع دی ، میں یہاں سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کی دائر درخواست پروکالت نامہ جمع کرانے آئی ہوں۔ان کا کہناتھاکہ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ میں اتنے سال خاموش رہی،متعلقہ اتھارٹیز کو مطلع کرچکی تھی ، جب بات آپ کے خاندان کی ہوتو اس کی حفاظت کیلئے اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.