یار میں 24 ، 25 سال سے عمران خان کی وکالت کرتے کرتے تھک چکا ہوں اور اب تنگ آگیا ہوں ۔۔۔۔۔ تحریک انصاف کی ایک نامور شخصیت نے ہارون الرشید سے دل کی بات کہہ ڈالی ، تفصیلات جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) کاشتکار حکومت کی ترجیحات میں کہیں موجود نہیں۔ پیہم وہ برباد ہے اور زبانِ حال سے پکارتاہے ۔ کچھ اپنے دل کی خبر رکھ کہ اس خرابے میں پڑا ہوں میں بھی کسی گنجِ گمشدہ کی طرح رنگارنگی اور بو قلمونی شاید اس کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ ہیجان کے مارے معاشرے یک رخے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بحث سارا وقت سیاست پہ ہوتی رہتی ہے۔ معیشت پہ بات ہوتی ہے تو کرپشن یا صنعت کاری پہ۔ صنعت کاری اہم ہے اور بہت ہی اہم۔ یہی جدید معیشت ہے۔ لائق انجینئر درکار ہیں کہ جدید مشینیں ڈھال سکیں۔حکومت کشکول اٹھائے نہ پھرتی رہے۔ صنعت کاری کی اہمیت مسلّم کہ تین صدیوں سے وہی معیشت کی جڑ اور بنیادہے۔امریکہ ہی نہیں،جنگ سے تباہ حال برطانیہ،جرمنی، جاپان اور کوریا ہی نہیں، ملائیشیا اور چین کی ترقی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ زراعت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایوب خان کے بعدسب کچھ ہم بھول گئے۔حقائق خوفناک ہیں کہ آدمی چونک اٹھتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک پرانے کارکن خدا یار خان چنڑ نے لکھا ہے: ربع صدی خان صاحب کی وکالت کر تے اب میں تھک چکا۔ 2019ء میں فاسفورس کھادوں پر حکومت نے زرِ اعانت کا اعلان کیا تھا۔ پانچ سو اور تین سو روپے کے ٹوکن فراہم کیے گئے۔ صرف بیس فیصد ٹوکن نتیجہ خیز رہے۔ باقی 80فیصد کو جواب ملا کہ آپ کا ٹوکن برتا جا چکا۔ کاشت کاری کے ایک موسم میں کھاد کی کروڑوں بوریاں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ 80فیصد روپیہ کہاں گیا؟ کون اس راز کو فاش کرے گا؟ 1550 سے یوریا کی قیمت 1700ہو گئی۔ ڈی اے پی 3000سے 3750پر۔ آسان شرائط پہ قرض کا وعدہ بھی پورا ہوا، نہ ٹریکٹر اور زرعی آلات اورفصلوں کی انشورنس کا۔ بعض کسان اب کاشتکاری

ترک کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ سرمایہ دار کا پانی 70روپے کلو بکتا ہے اور کسان کا دودھ 50روپے۔ پیاز کی قیمت تین سو روپے من تھی، اب سولہ سو۔ چینی کی قیمت دو گنا ہو گئی۔ خدا یارچنڑ نے لکھا ہے: عجیب زرعی ملک ہے کہ گندم، شکر، کپاس اور مکئی درآمد کی جاتی ہے۔ ٹڈی دل نے حملہ کیا تو حکومت ذہنی طور پر تیار نہ تھی۔یہی نہیں، برسوں سے دالیں بھی دساور سے آتی ہیں۔ ذمہ داری جہانگیر ترین کو سونپی گئی تھی۔ کاشتکار شکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑا قدم نہ اٹھایا؛حتیٰ کہ عتاب کا شکار ہو گئے۔ جہانگیر ترین کیا کرتے؟ اول صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی تشکیل میں جتے رہے۔ اس مہم سے نجات پائی تو ناراض حلیفوں کو منانے کی مہم۔ کبھی ایم کیو ایم والے بگڑ جاتے اور کبھی گجرات کے چوہدری۔ معاہدے کرتے ہوئے تو حصولِ اقتدار کی بے چینی سوار تھی۔ اس وقت ملحوظ نہ رکھا گیا کہ پیمان جو کیے جا رہے ہیں، انہیں پورا کرنا ممکن بھی ہوگا یا نہیں۔ آئے دن کے فضیحتے ہیں اور آئے دن کی الجھنیں۔ محمود خان پختون خوا اور پنجاب میں عثمان بزدارکی ویسی گرفت نہیں، جیسی وزراء اعلیٰ کی ہونی چاہئیے۔ ہر روز کوئی چنگاری بھڑکتی ہے اور حکومت آگ بجھانے میں لگی رہتی ہے۔ تازہ ترین کراچی، دیہی سندھ اور پختون خوا کا سیلاب ہے۔ وسائل کمیاب اور اسی ہنگام سندھ میں داد وصول کرنے کی کشمکش۔ کوئی انہیں بتانے والا نہیں،کوئی سمجھانے والا نہیں کہ سیلاب اور بارشوں کے اثرات سے نمٹ لیا گیا تو کریڈٹ سبھی کو ملے گا۔ یہی کشمکش رہی تو کسی ایک کا بھی بھلا نہ ہوگا اور ممکن ہے کہ کوئی حادثہ ہو جائے۔

جہانگیر ترین نے اپنی سی ایک کوشش ضرور کی۔APTMA آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن کو آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح شکر کے کارخانہ دارگنے کے کاشتکاروں کو قرض اور ادویات فراہم کرتے ہیں، وہ بھی ان کی پیروی کریں تاکہ کپاس کی پیداوار بڑھ سکے۔ شکر والوں کے لیے شوگر مافیا کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ واقعہ مگر یہ بھی ہے کہ فصل کی پیداوار بڑھانے کے لیے تھوڑی بہت امداد کاشتکاروں کی وہ ضرورکرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک ادارہ بنا رکھا ہے۔ ٹیکس وہ ادا کرتے ہیں۔ بحران اس میدان میں بھی آتے ہیں لیکن آخر کار نمٹ بھی جاتے ہیں۔ اپٹما نے جہانگیر ترین کو سن کر نہ دیا۔ کان لپیٹ کر پڑے رہے، حالانکہ آخری فائدہ انہی کا تھا۔ چند برس پہلے تک پاکستان کپاس کی ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں پیدا کیا کرتا۔ ایک گانٹھ کا وزن ساڑھے تین من کے لگ بھگ ہوتاہے۔ گرتے گرتے اب یہ ستر لاکھ رہ گئیں۔ امسال بیس پچیس فیصد مزید کمی کا اندیشہ ہے۔بتدریج زیرِ کاشت رقبے میں کمی ہو تی جا رہی ہے۔ سفید مکھی نام کا ایک کیڑا اور بعض وائرس کاشتکار کے لیے عذابِ جان ہیں۔کرنے کو حکومت بہت کچھ کر سکتی ہے مگر نہیں کرتی۔ مسلسل زوال کے باوجودپچھلی حکومت کو کوئی پرواہ تھی اور نہ پی ٹی آئی کو۔ مون سون کی بارشوں نے کپاس کو زیادہ نقصان پہنچایا اور مرچ کو بھی۔ انتہا یہ کہ چاول کی فصل بھی ڈوب گئی۔ زیادہ بارش دھان کے لیے مفید ہوتی ہے۔ابربرستا ہو تو ہوا اپنا سہانا گیت دھان کے کھیتوں کے لیے گاتی ہے۔ اب

عالم دوسرا ہے۔اللہ رے سنّاٹا، آواز نہیں آتی۔کھیتوں میں پانی کھڑا رہا، پودے ہی گل سڑ گئے۔ اندیشہ ہے کہ آئندہ برسوں میں کپاس کی پیداوار مزید کم ہو گی۔ ٹیکسٹائل ہی ملک کی سب سے بڑی برآمد ہے۔ کپاس ہی فنا ہو گئی تو کیا ہوگا۔ اپٹما کو ہرگز کوئی پرواہ نہیں۔ اذیت کاشتکار کے لیے ہے۔ کپاس منگوانے کے لیے حکومت نے ڈیوٹی ختم کر دی ہے؛لہٰذا پارچہ بافوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں۔ کئی برس ادبار کے گزرے لیکن اب اپنے مطالبات انہوں نے منوا لیے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اب پاکستانی کپڑے کی مانگ ہے۔ یہ الگ بات کہ بہت سا زرِ مبادلہ کپاس اور دھاگے کی درآمد پہ صرف ہو جائے گا۔صنعت کار دانا ہوتے تو کاشتکار کو بھی ملحوظ رکھتے، صرف اپنے مفاد کو نہیں۔ سب سے بڑی خرابی کیا ہے؟ نئے بیج کی ضرورت۔ آسٹریلیا، بھارت اور چین میں بیج بدلتے اور بہتر ہوتے رہتے ہیں، تقریباً ہر سال۔ یہاں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ جہانگیر ترین سیاست میں مگن رہے۔ تجارت اور خزانے کی وزارتیں طاقتور ہیں۔ داؤد رزاق نے اپنے لوگوں کے مطالبات منوا لیے۔ فخرِامام مخلص ہیں مگر ان کی سنتا کون ہے۔ مجبوراً انہیں پارٹی میں شامل کیا گیا ورنہ ٹکٹ دینے سے خان صاحب نے انکار کر دیا تھا۔ رزاق داؤد خان صاحب کے ذاتی دوست ہیں۔ گندم کا حال سب جانتے ہیں۔ بار بار دہرانے سے کیا حاصل۔تجویز اب یہ ہے کہ گیہوں کا نیا اور کارگر بیج رنگ چڑھا کر کسان کو دیا جائے۔ معیاری نہیں، ساٹھ فیصد کاشتکار اپنا بیج استعمال کرتے ہیں۔ کاشتکار حکومت کی ترجیحات میں کہیں موجود نہیں۔ پیہم وہ برباد ہے اور زبانِ حال سے پکارتاہے کچھ اپنے دل کی خبر رکھ کہ اس خرابے میں پڑا ہوں میں بھی کسی گنجِ گمشدہ کی طرح۔ (ش س م)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.