ہر عروج کو ہی زوال ہے! سعودی عرب کا بُرا وقت شروع ہونے کے قریب، سعودی شاہی خاندان کو افسوسناک خبر سُنا دی گئی

ریاض(نیوز ڈیسک ) کورونا کی وبا نے دُنیا کے تمام ترقی یافتہ اور تری پذیر ممالک کی معیشتوں کو بہت زیادہ مالی نقصان پہنچایا ہے، کئی ممالک کی ایئر لائنز اور مالیاتی ادارے بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ سعودی مملکت کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کو بھی اس عالمی وبا نے بُری طرح متاثر کیا ہے العربیہ نیوز کے مطابق سعودی عرب کو رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 29 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے پیش گوئی کی گئی ہے کہ سعودی عرب کی معیشت6.8 فیصد سُکڑے گی جس کا مطلب ہے کہ سعودی معیشت اگلے چند ماہ کے دوران مشکل دور سے گزرے گی۔ العربیہ نیوز کے مطابق یہ چیلنج عالمی مالیاتی ادارے کے زیر اہتمام ورچوئل فورم میں مباحثے کے دوران سامنے آیا

جس میں محمد الجدعان اورآئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا جارجیفا موجود تھیں۔سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے معاشی گراوٹ سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈ کی پیشگوئی کومسترد کیا ہے۔ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ ’ا?ئی ایم ایف کے ماہرین غلط ہیں۔ اس سال سعودی معیشت آ ئی ایم ایف کی پیشگوئی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’2021 میں بہت صحت مند گروتھ دیکھیں گے۔ ا?ئی ایم ایف نیا?ئندہ سال 3.1 فیصد گروتھ کی پیشگوئی کی ہے‘۔سعودی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک کو اس وقت دہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک جانب کرونا وائرس کی وبا کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوچکی ہے۔العربیہ نیٹ کے مطابق محمد الجدعان نے کہا کہ ہمیں تیل منڈی کے جھٹکے اور ریونیو میں کمی کا سامنا کرنا پڑا لیکن پورے سال کے دوران اس تمام معاملے سے بخوبی نمٹنے میں کامیاب رہے ہیں۔ قبل ازیں سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی (ساما) کے گورنر ڈاکٹر احمد الخلیفی نے کہا تھا کہ سعودی بینک کورونا کی وبا سے متاثر نہیں ہوئے۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کا مالیاتی شعبہ ماضی کی طرح آج بھی مستحکم ہے اور کل بھی رہے گا۔واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد بیشتر معاشی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئی ہیں

اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدن بھی گھٹ کر رہ گئی ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوسری سہ ماہی میں تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 45 فی صد کمی واقع ہوئی ہے اور اس کا حجم ساڑھے 25 ارب ڈالر ہے۔مجموعی آمدن میں 49 فی صد کمی واقع ہوئی ہے اور اس کا حجم 36 ارب ڈالر ہے۔دوسری سہ ماہی میں گذشتہ سال کے مقابلے میں اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 65 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے ہیں۔ البتہ ان میں پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں ساڑھے سات فی صد اضافہ ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.