اچھا تو یہ بات تھی : عمر شیخ کی بطور سی سی پی او لاہور تعیناتی یاری دوستی کا چکر نکلا ۔۔۔۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے دیرینہ و دوستانہ تعلقات اور شعیب دستگیر سے مخالفت کی اصل کہانی سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں آئی جی پولیس کی وکٹ اب تک سب سے کمزور ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی 2 سالہ حکومت میں 5 آئی جی کیچ آؤٹ ہو کرواپس پویلین جا چکے ہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ تمام آئی جیز وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کے معیار پر

پورا نہ اترنے کے باعث اوران کی رٹ کو چیلنج کرنے کے باعث وکٹ (پوسٹ) گنوا بیٹھے۔نامور کالم نگار عمران یعقوب خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ تبدیلی سرکارنے پولیس ریفارمزکا جوخواب دکھایا تھا وہ محض 2 سال میں پنجاب پولیس کے پانچویں آئی جی کی تبدیلی کے ساحل پرسر پٹخ پٹخ کر دم توڑگیا۔ پولیس میں کسی بھی قسم کے ریفارمزکے لئے قیادت کے جس تسلسل کی ضرورت تھی‘ اس سے صرف نظرکرکے سیاسی مصلحتوں اور مفادات کو ترجیح دی گئی اور سابق آئی جی پنجاب جناب شعیب دستگیرکی تبدیلی نے تو رہی سہی امید بھی غرق کر دی۔آخری جانے والے آئی جی شعیب دستگیرکو سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی بالا بالا تعیناتی سخت ناگوار گزری تھی۔ سی سی پی او لاہور کا اپنے ماتحت لاہور کے پولیس افسروں سے خطاب کے دوران آئی جی آفس سے رجوع نہ کرنے کا حکم اورایسا کرنے والوں کے لئے سخت تنبیہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ واقفانِ حال کے مطابق سابق آئی جی شعیب دستگیر کے قریب سمجھے جانے والے ذوالفقار حمید کو جب سی سی پی او کے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ پر ڈی آئی جی عمر شیخ کو سی سی پی او لاہور تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے گئے توسابق آئی جی شعیب دستگیر سے نہ صرف مشورہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کو اس سارے عمل سے بے خبر بھی رکھا گیا۔ شعیب دستگیر اور عمر شیخ کے حوالے سے یہ خبر بھی گردش میں ہے کہ کچھ روز قبل ان کی آپس میں تلخ کلامی بھی ہو چکی ہے،

ہمارے واقفانِ حال کے مطابق بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ عمر شیخ اپنی گریڈ 20 سے گریڈ 21 میں بطور ایڈیشنل آئی جی ترقی نہ ہونے کا ذمہ دار شعیب دستگیرکو سمجھتے ہیں اور وہ کئی محفلوں میں برملا اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ عمرشیخ اس پرہی نہیں رکے بلکہ لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ آئی جی صاحب ان سے صرف 2 سال سینئر ہیں۔ موجودہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ‘ جواس سے پہلے آر پی او ڈیرہ غازی خان تھے، کے اسی دورانیہ میں جناب عثمان بزدار سے اچھے تعلقات بن گئے بلکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ معاملہ دوستی کی حد تک ہے اور وہ بڑے کام کے آدمی ہیں۔ تو ایسے میں جب ہمارے پیارے عثمان بزدار خود لاہور آ چکے ہیں توانہوں نے عمرشیخ کو بھی بلا لیا۔سابق آئی جی صاحب نے وزیراعظم سے ملاقات کا وقت مانگا جو نہ مل سکا۔ پھر انہوں نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی جو طے شدہ نہیں تھی۔ سابق آئی جی پنجاب بنا یونیفارم وزیراعلیٰ پنجاب سے ملنے گئے اور ان سے مشاورت کیے بغیر سی سی پی او کی تعیناتی پر سخت شکوہ کیا بلکہ عمر شیخ کے رویے پر بھی نالاں دکھائی دیے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ ایسے یہ سسٹم نہیں چلے گا۔ وزیراعلیٰ نے انہیں کہا کہ اگر آپ سسٹم نہیں چلا سکتے‘ تو چلے جائیں۔ اس پر وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزیراعلیٰ آفس کی جانب سے شعیب دستگیرکو آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے سی سی پی او لاہور تعینات ہونے والے عمر شیخ کو بھی وزیراعظم ہائوس کی مکمل تائید حاصل تھی۔ سی سی پی او لاہورکی تعیناتی سے شروع ہونے والے تنازع نے اتنی شدت اختیارکر لی کہ محکمہ پولیس‘ جو ایک ڈسپلن کا پابند ہوتا ہے‘ میں ایک بغاوت کی سی صورتحال بن گئی۔ آئی جی صاحب نے دفتر جانا ہی چھوڑ دیا، اگرچہ وزیراعلیٰ پنجاب کے خیال میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ ”کام چل رہا تھا‘‘۔ اس اعلیٰ سوچ کو سلام!خیر دوبارہ موضوع کی طرف آتے ہوئے عرض یہ ہے کہ اس بار آئی جی کی تبدیلی نے پنجاب پولیس میں جو روایت ڈال دی ہے، ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اب ایسا کیا پردہ رہ گیا ہے کہ ایک ماتحت اپنے افسرکی حکم عدولی نہیں کرے گا؟ کیا ہر وہ ماتحت‘ جس کا ‘کلّہ‘ مضبوط ہو گا‘ اپنے افسر کو للکار سکتا ہے؟ اور سب سے بڑی بات تو یہ کہ بجائے معاملات کو سلجھانے کے‘ ایک نئی روایت ڈال دی گئی ہے جس سے نہ صرف محکمہ کے ڈسپلن پرکاری ضرب لگی ہے بلکہ جس سیاسی مداخلت کو ختم کرنے کے دعوے کئے گئے تھے‘ اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ اس ساری کارروائی میں یہ ایک پہلو بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں تعینات سینئر پولیس افسروں نے اپنی تنظیم پی ایس پی کے پلیٹ فارم سے سی سی پی او لاہور کے اس رویے کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ ایک اطلاع کے مطابق انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب کو اس ضمن میں ایک خط بھی لکھا ہے کہ

ایک جونیئر افسرکی طرف سے اپنے ایک سینئر اور صوبے کے اعلیٰ ترین عہدے یعنی آئی جی پنجاب کے حوالے سے استعمال کی جانے والی زبان ناقابل برداشت ہے اور اس پر ان کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیا جانا چاہئے۔ ہمارے ہر دل عزیز وزیراعظم ہمیشہ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت اور ریفارمز نہ ہونے کے بڑے ناقد رہے ہیں۔ تحریک انصاف ہمیشہ کے پی میں پولیس ریفارمز کا نہ صرف کریڈٹ لیتی رہی ہے بلکہ پنجاب پولیس پر اس حوالے سے کڑی تنقید بھی کی جاتی رہی ہے لیکن گزشتہ 2 سال میں ان کے وسیم اکرم پلس پولیس ریفارمز کر سکے اور نہ ہی پولیس کو غیر سیاسی بنا سکے بلکہ آئی جیز کی بار بار تبدیلی سیاسی مداخلت کا راستہ بنا رہی ہے۔ گزشتہ روز آئی جی پنجاب تعینات کئے جانے والے انعام غنی صاحب کے حوالے سے چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ پنجاب میں تعینات ایڈیشنل آئی جیز موجودہ آئی جی سے سینئر ہیں۔ انعام غنی کی گریڈ21میں ترقی اپنے بیچ کے دوسرے افسروں سے دو سال بعد ہوئی تھی۔ان حالات میں معاملات کیا رخ اختیار کرتے ہیں‘ یہ تو آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہو گا۔ واقفانِ حال کے مطابق ان کی اس ترقی اور آئی جی پنجاب کے عہدے پر حالیہ تعیناتی میں وزیراعظم ہاؤس کے سب سے مضبوط ‘افسر‘ کا ہاتھ ہے۔ تبدیلی سرکار کے 2 سالہ دورِ حکومت میں اب تک پنجاب کے 5 آئی جیز تبدیل ہو چکے ہیں۔ شعیب دستگیر 28 نومبر 2019ء سے 8 ستمبر 2020ء تک آئی جی پنجاب رہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان 17 اپریل 2019ء سے 28 نومبر 2019ء، اور امجد جاوید سلیمی 15 اکتوبر 2018ء سے 17 اپریل 2019ء تک پنجاب پولیس کے سربراہ رہے۔ محمد طاہر 11 ستمبر2018ء سے 15 اکتوبر 2018ء اور ڈاکٹر سید کلیم امام نے 13 جون 2018ء سے 11 ستمبر 2018ء تک آئی جی پنجاب کے عہدے پرکام کیا۔ پچھلے 2 برسوں سے عمران خان صاحب پر دباؤ ہے کہ وہ ناتجربہ کار وزیراعلیٰ سے پنجاب چلانے کے بجائے تجربہ کار ٹیم سے اس بڑے صوبے کے معاملات چلائیں لیکن شاید وزیراعظم چاہتے ہیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا ہے‘ اس کو تمام طبقات تسلیم کریں، مگر شاید اس کے لئے صرف عمران خان کی شخصیت کا کرشمہ کافی نہیں بلکہ اس کے لئے کارکردگی کی ضرورت ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.