سی سی پی او عمر شیخ کیا بلا ہے ،اس کی وجہ سے آئی جی پنجاب سے کیوں استعفیٰ لیا گیا؟ خفیہ ایجنسیوں کی تہلکہ خیزرپورٹ لیک ۔۔۔بڑے بڑوں کو سانپ سونگھ گیا

لاہور(ویب ڈیسک ) پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور میں تعینات ہونے والے سی سی پی او محمد عمر شیخ کے حوالے سے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی ماضی میں تیار کی گئی رپورٹ حالیہ تنازعے کے بعد منظر عام پر آگئی ۔پولیس کا ادارہ اپنے ہی اعلیٰ افسر کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے ؟تہلکہ خیز تفصیلات

سامنے آنے کے بعد بہت سارے سوالات اٹھنا شروع ہو جائیں گے ۔سنٹرل سلیکشن بورڈ کی رپورٹ کے مطابق محمد عمر شیخ لاہور میں تعینات ہونے سے پہلے ماضی میں ڈی پی او سرگودھا بھی رہ چکے ہیں ۔محمد عمر شیخ مالی کرپشن میں ملوث تھے ۔اس وقت کے ڈی ایس پی سٹی لیاقت تارڑ کے ذریعے محمد عمر شیخ ایس ایچ اوز کے تبادلے کرتے تھے اور ایس ایچ اوز سے ایک لاکھ روپے ہر مہینے وصول کرتے تھے ،محمد عمر شیخ مالی اور اخلاقی لحاظ سے کرپٹ تھے ۔ان پر ایک خاتون کانسٹیبل کے ساتھ نا جائزتعلقات کا بھی الزام ہے۔وہ اپنے سرکاری کام اور عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دیتے تھے بلکہ جوا کھیلا کرتے تھے ۔ اسی رپورٹ میں محمد عمر شیخ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ پروفیشنل افسر ہیں اور عوام کے ساتھ ان کا رویہ بہتر ہےتاہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ رویہ درست نہیں ہے۔ دوسری طرف ایک خبر کے مطابق قومی احتساب بیوروکے چیئرمین جسٹس(ر) جاویداقبال نے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں بدعنوانی کے الزامات پر 6انکوائریوں اور 4 انویسٹی گیشنز کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں چیئرمین نیب کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکانٹیبلٹی نیب، ڈی جی آپریشن نیب اور ڈی جی نیب راولپنڈی شریک ہوئے جب کہ ڈی جی نیب خیبرپختونخوا، ڈی جی نیب سکھر اور ڈی جی نیب کراچی نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔نیب اعلامیے کے مطابق اجلاس میں چیئرمین نیب نے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں 4الگ الگ تحقیقات اور6انکوائریوں سمیت ٹیکسٹ بورڈ خیبر پختونخوا کے افسران اور دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی۔اجلاس میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل)کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر، چیف ایگزیکٹو آفیسر ،رکن بورڈ آف ڈائریکٹرز اور دیگر کےخلاف ریفرنس دائرکرنے کی بھی منظوری دی گئی، ملزمان پر تیل و گیس کی تلاش کےٹھیکےمیں بدعنوانی کاالزام ہے ۔اعلامیے کے مطابق محکمہ تعلیم اورخواندگی حکومت سندھ کے افسران واہلکاروں کیخلاف بھی تحقیقات کی منظوری دی گئی۔اس موقع پر چیئرمین نیب نے کہا کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے،نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور کرپشن فری پاکستان کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے، نیب کی اولین ترجیح میگاکرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے 468ارب روپے برآمدکرکے قومی خزانے میں جمع کرائے، نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہیجو نیب کے لیے اعزازکی بات ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.