سعودی شاہی خاندان نے ٹرمپ سے بہترین تعلقات کیسے بنائے؟ تازہ کتاب میں حیران کن دعوا

سعودی شاہی خاندان نے ٹرمپ سے بہترین تعلقات کیسے بنائے؟ تازہ کتاب میں حیران کن دعویٰ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) صدر ڈونلڈٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کو نئی جہت ملی اور وہ نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ آخر سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کو رام کرنے کے لیے ایسا کیا کیا؟ معروف مصنفین بریڈلے ہوپ اور جسٹن شیک نے اپنی نئی کتاب ’بلڈ اینڈ آئل‘ (Blood and Oil)میں اس حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق بریڈلے ہوپ اور جسٹن شیک نے کتاب میں لکھا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بخوبی جانتے ہیں کہ ایک عمر رسیدہ کمزور شخص کو کس طرح تھوڑی سی خوشامد اور اربوں ڈالر کے معاہدوں کے ساتھ رام کیا جا سکتا ہے۔ سعودی شاہی خاندان کے اندر شہزادہ محمد کو اس کام کا بہت تجربہ تھا۔ انہوں نے خود سے سینئر شہزادوں کو اسی طریقے سے اپنے راستے سے ہٹایا اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
مصنفین لکھتے ہیں کہ شہزادہ محمد نے 2016ءمیں ڈونلڈٹرمپ کی انتخابات میں فتح کا خیر مقدم کیا اور ان کے مخالفین صدر باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن کے خلاف بیانات دیئے، جس سے وہ صدر ٹرمپ کے قریب تر ہوتے چلے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے صدر ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر کو بھی یہ احساس دلایا کہ وہ بہت اہمیت کے حامل رہنماءہیں۔ دوسری طرف 2017ءمیں شاہ سلمان نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی اور انہیں ایک لطیفہ بھی سنایا۔ اس فون کال نے بھی صدر ٹرمپ کو رام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے فوری بعد صدر ٹرمپ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے اور وہاں سعودی حکومت نے ان کی ایسی خاطر مدارت کی کہ صدر ٹرمپ سعودیوں کے آگے بچھتے چلے گئے۔ مصنفین لکھتے ہیں کہ 2016ءمیں صدر ٹرمپ کے انتخاب کو بیشتر اسلامی ممالک خطرے کے طور پر دیکھ رہے تھے کیونکہ صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم میں مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم شہزادہ محمد بن سلمان صدر ٹرمپ کی فتح کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے تھے اور انہوں نے اس موقعے سے بخوبی فائدہ اٹھایا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.