روالپنڈی سے بریڈ فورڈ تک چلنے والی بس سروس کی کہانی

روالپنڈی سے بریڈ فورڈ تک چلنے والی بس سروس کی کہانی

بس سروس12دنوں میں ساڑھے سات ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے برطانیہ پہنچتی تھی
لاہور سوشل میڈیا پر 1970 کی دہائی کی ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں بریڈ فورڈ سے راولپنڈی چلنے والی ایک بس دکھائی گئی جو 12 دنوں میں7ہزار5سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے مسافروں کو اپنی منزل پر پہنچا دیتی تھی. اس بس کو شاہین ایکسپریس کہا جاتا تھا اور اس کے پہلے سفر میں اس میں 40 مسافر بیٹھے تھے جن میں نو بچے، پانچ عورتیں اور دو طالب علم بھی شامل تھے اس بس سروس کی بریڈ فورڈ سے راولپنڈی تک کی ٹکٹ صرف 40 پاﺅنڈ کی ہوتی تھی اور جو شاہین ایکسپریس پر ہی واپس آنا چاہتا تو اس کا رٹرن کرایہ 75 پاﺅنڈ ہوتاتھا جس میں ہر مسافرکو18کلو تک وزن لیجانے کی اجازت ہوتی تھی یہ وہ دور تھا جب برطانوی پاﺅنڈ اور پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی فرق تھا.
برطانوی نشریاتی ادارے نے پاکستان کے سنہرے ماضی کو زندہ کرتے ہوئے بریڈفورڈ برطانیہ سے روالپنڈی تک چلنے والی اس بس سروس کی کہانی سے نئی نسل کو روشناس کروایا ہے‘پاکستان کی نئی نسل کے لیے شاید یہ بات بھی ماننا مشکل ہوگی کہ 1980کی دہائی تک امریکا اور یورپ سے ہپیوں کی ٹولیاں ہر موسم میں ملک کے مختلف علاقوں میں مٹرگشت کرتی نظر آتی تھیں. اگرچہ ان کی تعداد 1970کی دہائی کے مقابلے میں کم ہوئی تھی مگر پھر بھی ایک بڑی تعداد پاکستان کے شمالی علاقہ‘قبائلی علاقوں اور کراچی‘لاہور‘روالپنڈی میں نظر آتی تھی اسلام آباد چونکہ اس زمانے میں ابھی مکمل طور پر آباد نہیں ہوا تھا لہذا صرف وہی سیاح اسلام آباد کا رخ کرتے تھے جنہیں ویزے میں توسیع یا اپنے ملک کے سفارت خانے میں کوئی کام ہوتا تھا . وہ دور اور تھا نہ سکیورٹی کے مسائل آج جیسے تھے اور نہ سرحدوں پر آج کی سختیاں اور کورونا کا خوف لوگ کاریں، منی بسیں اور یہاں تک کے پیدل ہی لفٹ لیتے ہوئے بھی دنیا کی سیر کو نکل جاتے تھے‘لیکن اب حالات مختلف ہیں۔
لیکن پھر بھی مہم جوئی کے متوالے اپنے شوق کی خاطر نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں. حال ہی میں بھارت سے خبر آئی کہ دلی کی ایڈونچرز اوورلینڈ کمپنی بھارتی دارالحکومت سے لندن تک بس سروس شروع کر رہی ہے کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اگر کورونا کی وبا آڑے نہ آئی تو مئی، جون 2021 میں وہ لندن کی جانب سفر کر رہے ہوں گے. تاہم ایڈونچرز اوورلینڈز کا سفر ماضی میں کیے گئے لندن کے سفر سے قدرے مختلف ہے یہ سیدھا سادہ سات، ساڑھے سات ہزار کلومیٹر کا سفر نہیں ہے جو زیادہ سے زیادہ بارہ چودہ دنوں میں ختم ہو جاتا تھا بلکہ یہ تقریباً 20 ہزار کلو میٹر کی مسافت ہے جس کے دوران 70 دن میں آپ 20 کے قریب ممالک سے ہوتے ہوئے لندن پہنچیں گے. کمپنی کے بانی توشار اگروال اور سنجے مدن پہلے بھی دہلی سے لندن کے سفر کرا چکے ہیں لیکن وہ مختلف اس طرح تھے کہ ان میں لوگ اپنی گاڑیاں لے کر قافلے کی صورت میں چلتے تھے اب بس بس ہو گی اور 20 کے قریب مسافر جنھیں ایڈونچر کا شوق ہو گا. انہوں نے بتایا کہ ویزہ پرمٹ کے لیے ہمیں صرف تین چار مہینے ہی چاہیئے انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومتیں ایک طرف شہری آزادیوں کے نعرے لگاتی ہیں تو دوسری جانب لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے سے روکا جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ ہمارے اس مجوزہ سفر 40 ہزار کے قریب لوگوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ابھی سے بکنگ کر لیں، لیکن ہم نے ابھی بکنگ شروع نہیں کی کیونکہ ہم پرمٹس ‘کلیئرنس‘ویزوں اور دیگر دستاویزات کی منظوری کے انتظار میں ہیں اگر سب چیزیں ٹھیک رہیں تو ہم نومبر یا دسمبر سے بکنگ شروع کریں گے. ماضی میں پاکستان سے ایران، ترکی اور یورپ کا چھوٹا روٹ استعمال کیا جاتا تھا یہ سستا بھی تھا اور اس میں 12 دن لگتے تھے لیکن پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات اورایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے انہیں چین‘کرغستان‘ازبکستان اور قازستان سے روسی علاقے سے ہوتے ہوئے مشرقی یورپ میں داخل ہونگے جہاں سے لندن کا سفر شروع ہوگاجبکہ 1960کی دہائی میں روالپنڈی اور بریڈ فور ڈ برطانیہ سے چلنے والی ”شاہین ایکسپریس“ بس سروس روالپنڈی سے کوئٹہ اور پھر تفتان باڈرسے ایران میں داخل ہوجاتی تھی اور ایران سے ہوتی ہوئی ترکی اور وہاں سے یورپ میں داخل ہوجاتی تھی یہ بس سروس 12دنوں میں برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ پہنتی تھی . لندن میں لیاری کراچی سے تعلق رکھنے والے کاروباری حبیب جان جوکہ سیاسی حلقوں میں بھی پہچانے جاتے ہیں ایک بس سروس کا منصوبہ بناکر بیٹھے ہیں جولندن سے لاہور اورلاہور سے کرتار پور جائے گی تاہم ان کا گلہ ہے کہ پاکستانی افسرشاہی ان کے منصوبے کی منظوری نہیں دے رہی‘انہوں نے بتایا کہ تمام روکاٹوں کے باوجود ان کا منصوبہ تیار ہے بسیں تیار ہیں، ڈرائیور تیار ہیں، بریک ڈاﺅن مکنیک تیار ہے، اور تو اور مسافر تک تیار ہیں کہ کب منصوبے کو سبز بتی دکھائی جائے اور وہ بس پکڑیں.
حبیب جان کہتے ہیں کہ کرتار پور رہداری پاکستان کو عالمی سطح پر لانے کا ایک سنہرا موقع ہے جسے گنوانا نہیں چاہیئے یہ نہ صرف سکھ برادری کے دل میں پاکستان کے لیے عزت لائے گا بلکہ اس سے کشمیریوں کی کاز بھی اجاگر ہو گی کہ پاکستان امن کے ذریعے معاملات سلجھانا چاہتا ہے دوسرا یہ کہ اس سے سیاحت بڑھے گی، صنعتوں کو فروغ ملے گا اور پاکستان کا نام روشن ہو گا. حبیب جان کے مطابق بس کے ابھی تک نہ چلنے کی کئی وجوہات ہیں، یا یوں کہیئے کہ یہ ابھی ان کے بس میں نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان حکومت کو چاہیئے کہ وہ بھی کرتاپور ٹورازم کو اسی طرح فروغ دے جس طرح اس نے کرتار پور راہداری بنانے میں سنجیدگی اور پھرتی دکھائی تھی. یورپ کے دیگر ممالک میں موجود پاکستان کے کونسل خانوں میں خصوصی کرتارپور ڈیسک ہونے چاہیئں جو کرتار پور جانے والی سکھ برادری اور ٹراسپورٹرز کو سہولیات فراہم کریں کیونکہ ہر ملک کی اپنی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ اس میں ایکٹیو کردار ادا کرے اور دوسرے ممالک کو یقین دلائے کہ اس

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.