’’ کچھ شرم کرو ، خداکے خوف سے ڈریں ‘‘ لندن میں اسحاق ڈار کو خاتون نےکھری کھری سنادیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں اسحا ق ڈار پر ایک خاتون برہم ہو گئیں، کھری کھر ی سنا دیں۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں خاتون سابق وزیر اسحاق ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھائی صاحب بات سنیں جبکہ اسحاق ڈار کی جانب سے جواب دیا کہ مناسب نہیں ہے ۔ خاتون نے سابق وزیر خزانہ کو کہا کہ کچھ شرم کریں اور خدا کے خوف سے ڈریں ، یہاں تو نواز

شریف کو تو بچا لو گے لیکن اللہ کی عدالت میں کیا جواب دو گے ، اللہ پاک نے آپ کولوگوں کو چھوڑنا نہیں کیونکہ تم لوگ پاکستانی عوام کو لوٹ لوٹ کر کھا گئے ،اس پر اسحاق ڈار نے اشارہ کیا اس چپ کرائو ، خاتون کا کہنا تھا کہ میں کوئی الزام نہیں لگا رہی بلکہ حقیقت بیان کر رہی ہوں ، انشاء اللہ تعالی نے چاہا تو آپ دنیا میں ذلیل و رسوا توہو گے ہی آخرت میں بھی ہم لوگ آپ کا گریبان پکڑیں گے ۔ جبکہ ایک فرد نے خاتون سے کہا ہے کہ عمران خان آپ پسندیدہ ہے آپ پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں جس پر خاتون نے کہا ہے میں یہاں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ لوگوں نے پاکستانیوں کی دولت لوٹ لی ہے شرم نہیں آتی آپ کو اللہ کی عدالت میں کیا جواب دو گے ، اللہ نے چاہا تو آپ لوگ یہاں پر ذلیل ہو گے اور آخرت میں ہم تمہارا گریبان پکڑیں گے ۔ نواز شریف کو جتنا بچانا ہے بچالو لیکن نہیں بچو گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ذلت و رسوائی ملے گی ۔

سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی آ گئی

کراچی(نیوز ڈیسک)مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت100روپے کے اضافے سے1لاکھ 13ہزار450روپے ہوگئی۔صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 7ڈالرکے اضافے سے 1863ڈالر ہوگئی جس کے زیر اثر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت100روپے کے اضافے سے1لاکھ 13ہزار450روپے اوردس گرام سونے کی قیمت85روپے کے اضافے

سے 97ہزار265روپے ہوگئی جب کہ چاندی کی فی تولہ قیمت 1300روپے مستحکم رہی۔ دوسری جانب کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ، سٹیٹ بینک کے ٹوئٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہہفتے کے آخری کاروباری روز انٹربینک مارکیٹ میں جب کاروبار بند ہوا توڈالرکی قیمت 160.75روپے پرتھی جبکہآج کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 160.80روپے پرپہنچگئی ۔ اس طرح کاروباری ہفتے کے پہلیروزڈالر کی قیمت میں5پیسے کا اضافہ ہوا، دوسر ی جانب ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر ایک ہفتے کے دوران39کروڑ87لاکھ ڈالر کی کمی سے20ارب12کروڑ3لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔اسٹیٹ بینک کے جاری اعدادو شمار کے مطابق 15جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملکی مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 20ارب51کروڑ90لاکھ ڈالرسے گھٹ کر20ارب12کروڑ3لاکھ ڈالر ہوگئے جن میں مرکزی بینک کے ذخائر38کروڑ62لاکھ ڈالر کی کمی سے 13ارب40کروڑ ڈالر سے گھٹ کر13ارب1کروڑ38لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر1کروڑ25لاکھ ڈالرکی کمی سے 7ارب 10کروڑ65لاکھ ڈالرز کی سطح پرآ گئے۔


مولانا فضل الرحمان کے پیچھے کونسا عرب ملک کھڑا ہوگیا؟ وسائل فراہم کر دیئے گئے

لاہور (نیوز ڈیسک )سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں شامل ہے بھی اور نہیں بھی،انہوں نے فیصلہ کیا کہ استعفے دینگے مگر پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کو سبوتاژ کردیا، انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کرینگے ،اب لانگ مارچ میں پیپلز پارٹی کی شمولیت اگر ہوئی تو پرجوش نہیں ہوگی ،ایک ٹیکنو کریٹس کی حکومت کا منصوبہ کچھ لوگوں نے بنا رکھا ہے ۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی بات بلاول نے تنہا نہیں کی،آفتاب شیرپائو ، اخترمینگل بھی حق میں ہیں ،زرداری نے اسٹیبلشمنٹ سے پینگیں بڑھا لی ہیں ، احتساب پر جو موقف عمران کا ہے ، اسٹیبلمشنٹ کا قدرے مختلف ہے ،زرداری نے صاف الفاظ میں میسج دیا ہے کہ جو دھمکیاں نوازشریف ، مریم ،فضل الرحمان نے دیں ہم اس میں شریک نہیں ہیں،عملی طور پر پی ڈی ایم مردہ چوہا ثابت ہوئی ہے ،لوگ جو ق در جوق باہر نہیں نکلے ،یہ کوشش کرینگے کہ افرا تفری پیدا ہو، فضل الرحمان کو ایک عرب ملک کی تھپکی ہے ،انہوں نے وسائل بھی فراہم کئے ہیں ۔

آئندہ 24گھنٹے میں کیا ہونےوالاہے؟؎عوام تیاری کرلیں، خطرے کی گھنٹی بجادی ۔۔

شدید سردی ۔ بارش یا برفباری۔۔محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجادی ۔آئندہ 24گھنٹے میں کیا ہونےوالاہے؟عوام تیاری کرلیں اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں سردی کی شدت میں اضافے کی وجہ بتا دی۔۔ ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری نے سردی کی شدت بڑھا دی۔ سوات، لوئر دیر، وادی لیپہ، چلاس، دیامر اور نیلم میں برفباری ہوئی جبکہ مظفر آباد، مانسہرہ، سیدو شریف میں بارش ہوئی۔ مری

میں 24 گھنٹے کے دوران6 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی اور ملک بھر سے سیاحوں نے ملکہ کوہسار کا رخ کر لیا۔ٹریفک پولیس کے مطابق ایک
روز میں 35 ہزار سے زائد گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔ سڑکوں پر برف جم جانے کے باعث پولیس سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی جبکہ ایبٹ آباد کو مری سے ملانے والی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو بھی خبردار کر دیا۔کراچی میں سردی کی نئی لہر کا امکان ہے اور درجہ حرارت 7 ڈگری تک گرنے کی پیشگوئی کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید دھند کا سلسلہ جاری ہے۔ موٹروے کو ایم تھری لاہور سے سمندری تک بند کر دیا گیا جبکہ قومی شاہراہ پر لاہور، قصور، مانگا منڈی سمیت کئی مقام پر حد نگاہ 100 میٹر تک رہ گئی۔ٹھوکر نیاز بیگ سے شیخوپورہ انٹرچینج تک ٹریفک کو بند کر دیا گیا تھا جسے صبح دھند کم ہوتے ہی کھول دیا گیا جبکہ موٹروے ایم ٹو بھی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی تاہم پولیس نے شہریوں کو غیرضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کر دی۔ روز میں 35 ہزار سے زائد گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔ سڑکوں پر برف جم جانے کے باعث پولیس نے سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی جبکہ ایبٹ آباد کو مری سے ملانے

والی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو بھی خبردار کر دیا۔کراچی میں سردی کی نئی لہر کا امکان ہے اور درجہ حرارت 7 ڈگری تک گرنے کی پیشگوئی کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید دھند کا سلسلہ جاری ہے۔ موٹروے کو ایم تھری لاہور سے سمندری تک بند کر دیا گیا جبکہ قومی شاہراہ پر لاہور، قصور، مانگا منڈی سمیت کئی مقام پر حد نگاہ 100 میٹر تک رہ گئی۔ٹھوکر نیاز بیگ سے شیخوپورہ انٹرچینج تک ٹریفک کو بند کر دیا گیا تھا جسے صبح دھند کم ہوتے ہی کھول دیا گیا جبکہ موٹروے ایم ٹو بھی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی تاہم پولیس نے شہریوں کو غیرضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کر دی۔

دُنیا بھر میں اچانک فیس بُک اکاؤنٹس ’لاگ آؤٹ‘ کیوں ہوئے؟ انتظامیہ نے پیغام جاری کر دیا

سنگا پور (نیوز ڈیسک ) معروف سماجی ویب سائٹ فیس بُک کے دنیا بھر میں موجود صارفین کے اکاؤنٹس گذشتہ رات اچانک لاگ آؤٹ ہو گئے جس پر صارفین نے پریشانی کا اظہار کیا۔

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین کی جانب سے اپنے فیس بُک اکاؤنٹس لاگ آؤٹ ہونے پر ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ فیس بُک نے میرا اکاؤنٹ لاگ آؤٹ کیوں کیا ؟ جبکہ کئی صارفین نے اپنے ٹویٹر پیغامات میں کنفیوژن کا اظہار بھی کیا اور دریافت کیا کہ آخر ایسا کیونکر ہوا ہے۔

صارفین کا کہنا تھا کہ ہمارے فیس بُک اکاؤنٹس خود بخود لاگ آؤٹ ہو گئے اور فیس بُک اکاؤنٹس نے لاگ ان کے لیے دوبارہ پاسورڈ مانگنا شروع کر دیا تھا جو غیرمعمولی بات تھی۔ جبکہ کچھ صارفین نے تو یہاں تک کہا کہ انہیں پاسورڈ ری سیٹ کرنے میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
جس نے فیس بُک صارفین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ یہ مسئلہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوا جبکہ گیارہ بج کر بیس منٹ تک 4,800 ایسی شکایات موصول ہو چکی تھیں۔

صارفین کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں شکایات موصول ہونے کے تقریباً 14 گھنٹوں کے بعد سماجی رابطے کی ویب فیس بُک نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں اس مسئلے سے متعلق بیان جاری کیا۔ فیس بُک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہمیں صارفین کو درپیش اس مسئلے کا علم ہے۔ ہم صارفین کی جانب سے اکاؤنٹس لاگ آؤٹ ہونے اور فیس بُک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے دوبارہ لاگ ان کرنے کی ضرورت پیش آنے کی شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فیس بُک انتظامیہ نے مزید کہا کہ ہم اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ سب کے صبر و تحمل کا بے حد شکریہ۔

ایسے حقائق کہ جناب کپتان سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار و سینئر صحافی سعید آسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین! آج آپ کو ایک داستان سنا رہا ہوں۔ بغیر کسی لگی لپٹی کے اور بالکل سچی داستان۔ یہ داستان کسی ہماشما کی نہیں‘ پاکپتن کے ایک معتبر خانوادے کے اس فرد کی داستان ہے

جس نے ایک نیک نام بیوروکریٹ کی حیثیت سے دفتر خارجہ میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور مختلف ممالک میں سفیر پاکستان کی حیثیت سے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ یہ ہیں غلام فرید فرخ جو پرائمری سے لاء کی تعلیم تک میرے سکول اور کالج فیلو رہے۔ چنانچہ ان سے اور انکے خاندان سے میری دیرینہ یاداللہ ہے اور اس ناطے سے میں انکی شرافت‘ متانت‘ دیانتداری اور خاندانی سلجھائو و رکھ رکھائو کی گواہی دے سکتا ہوں۔ فرید فرخ صاحب آج کل اسلام آباد میں اپنے بچوں کے ساتھ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے مثالی معاشرہ کے ایجنڈے کی بنیاد پر انکے بے لوث اور پرخلوص حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انکی داستان اسی حوالے سے شروع ہوتی ہے جس کا اختتام آپ سے یہ فیصلہ کرنے کا متقاضی ہوگا کہ آیا ہمارے معاشرے کو فی الواقع بدعنوانی کے ناسور سے پاک کرنا ممکن ہے اور اس کیلئے وزیراعظم اور انکی حکومت اپنے نئے پاکستان کے ایجنڈے کے تحت مؤثر اقدامات اٹھا بھی رہی ہے یا بدعنوانی سے نجات کا نعرہ محض فیشن کے طور پر اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کیلئے لگایا جارہا ہے۔ فرید فرخ صاحب نے اپنے ممدوح عمران خان کے سیاسی ایجنڈے بالخصوص کنسٹرکشن سیکٹر کے فروغ کیلئے انکے اعلان کردہ پراجیکٹس میں عملی حصہ لینے کا بیڑہ اٹھایا اور پاکپتن شہر کے اندر موجود اپنی وراثتی اراضی پر رہائشی فلیٹس تعمیر کرنے کی ٹھانی۔ یہیں سے انکی یا اس وطن عزیز کی بدقسمتی کی داستان شروع ہوتی ہے۔ فرخ صاحب اپنے بیٹے کے ہمراہ اسلام آباد سے پاکپتن آگئے اور اپنے مجوزہ منصوبے کی منظوری کیلئے بلدیہ پاکپتن کے متعلقہ سٹاف سے رابطہ کیا

جس کے مشورے سے انہوں نے ایک آرکیٹکچر سے فلیٹس کا ڈیزائن اور نقشہ تیار کراکے بلدیہ کے متعلقہ سیکشن کے حوالے کر دیا۔ یہ آرکیٹکچر گزشتہ گیارہ بارہ سال سے بلدیہ پاکپتن کیلئے کام کررہا تھا اس لئے بلدیہ کی جانب سے کسی اعتراض کی گنجائش نہیں تھی مگر بلدیہ کے متعلقہ عملہ نے انہیں چکر پر چکر لگوانا شروع کر دیئے اور اشاروں کنایوں میں نذرانے کی فرمائشیں ہونے لگیں۔ فرید فرخ صاحب چونکہ اپنے ممدوح عمران خان کا کرپشن فری سوسائٹی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا دیکھنا چاہتے تھے اور انہوں نے خود بھی پاکدامنی کے ساتھ اپنے سرکاری مناصب سنبھالے اور نبھائے ہوئے تھے اس لئے وہ نقشے کی منظوری کے عوض نذرانہ پیش کرنے سے صاف انکاری ہو گئے۔ اس پر بلدیہ کے متعلقہ سٹاف کی جانب سے یہ اعتراض لگا کہ نقشے کی منظوری سے معذرت کرلی گئی کہ پہلے اس اراضی کی رہائشی اراضی کے طور پر منظوری لی جائے۔ یہ درحقیقت متعلقہ سٹاف کی جانب سے بالواسطہ پیغام تھا کہ نذرانے کے بغیر اپنے پراجیکٹ کی منظوری لے کر دکھائو۔ باوجود اسکے کہ انکی اراضی پہلے ہی پاکپتن کی شہری حدود میں واقع تھی جس کو رہائشی اراضی میں تبدیل کرانے کیلئے کسی این او سی کی ضرورت نہیں تھی‘ فرخ صاحب نے ہمت نہ ہاری اور متعلقہ سٹاف کو رہائشی اراضی کیلئے پراسس شروع کرنے کا کہا۔ اس بار متعلقہ سٹاف نے پھر یہ کہہ کر ’’نذرانے‘‘ کیلئے ڈول ڈالا کہ اس اراضی کی رہائشی اراضی کے طور پر منتقلی کیلئے انہیں خطیر رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانا پڑیگی۔

انہوں نے قومی خزانے کو فائدہ پہنچانے کی نیک نیتی کے تحت اس پر بھی آمادگی ظاہر کردی جس پر بلدیہ پاکپتن کے متعلقہ افسر نے انہیں نذرانے کیلئے آمادہ نہ پا کر انکے پیش کردہ ڈیزائن اور نقشے پر یہ اعتراض لگا دیا کہ یہ کسی ’’کوالیفائیڈ آرکیٹکچر‘‘ سے تیار نہیں کرایا گیا‘ یہ اعتراض اس لئے بھی مضحکہ خیز تھا کہ متعلقہ آرکیٹکچر کی خدمات بلدیہ حکام کی رضامندی کے ساتھ ہی حاصل کی گئی تھیں۔ جب انہوں نے بلدیہ کے اعتراض پر احتجاج کیا تو انہیں ٹکہ سا جواب ملا کہ اب بلدیہ کے قواعد و ضوابط تبدیل ہو گئے ہیں اور اب صرف کوالیفائیڈ آرکیٹکچر کا تیار کردہ نقشہ ہی منظور ہوگا۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی اس بے کار ایکسرسائز کے بعد فرخ صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو انہوں نے دادرسی کیلئے وزیراعظم کے آن لائن سٹیزن پورٹل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے انکی داستان ایک دوسرے المیے میں داخل ہو جاتی ہے۔ انہیں تو پورا گمان تھا کہ ایک سچے‘ کھرے اور دیانتدار وزیراعظم کے قائم کردہ اس شکایات سیل کے ذریعے افسر شاہی کیخلاف عام شہریوں کی فوری دادرسی ہوگی مگر سٹیزن پورٹل سے رجوع کرنے کا ان کا فیصلہ ان کیلئے پہلے سے بھی زیادہ مایوس کن ثابت ہوا کہ انکی درخواست اس سسٹم میں گھومتے گھماتے بلدیہ پاکپتن کے اسی افسر کے پاس واپس آگئی جس نے نقشے کی منظوری کی انکی درخواست مسترد کی ہوئی تھی۔ انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ کسی شہری کی دادرسی کی درخواست براہ راست وزیراعظم تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آتی اور یہ متعلقہ صوبے کے چیف سیکرٹری سے

محکمہ محکمہ چکر لگاتی مختلف روایتی ریمارکس کے ساتھ ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ کی عملی تصویر بن کر داخل دفتر ہو جاتی ہے۔ سٹیزن پورٹل سے انہیں یہی حتمی جواب ملا کہ انکی درخواست متعلقہ آفس کے ریکارڈ کے مطابق قابل پذیرائی نہیں ہے۔ فرید فرخ صاحب نے سٹیزن پورٹل کے اس جواب پر سخت ریمارکس دیکر اور سارے حقائق دوبارہ بیان کرکے دوبارہ پوٹل میں ڈال دیئے اور دو سال کی اس لاحاصل مشقت کے بعد رہائشی فلیٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ ترک کرکے مایوسی کے عالم میں اپنے بیٹے کے ہمراہ اسلام آباد واپس جا چکے ہیں۔ وہ سسٹم سے تو مکمل مایوس ہیں مگر وزیراعظم عمران خان کی صداقت و دیانت پر انہیں اب بھی مکمل اعتماد ہے۔ میری تو دعا ہے کہ خدا ان کا یہ بھرم کبھی ٹوٹنے نہ دے مگر انکے ساتھ جو کچھ بیتا ہے وہ در حقیقت حکومتی گورننس کی کمزوری کا شاخسانہ ہے۔ اگر کوئی حکمران اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنی گورننس مضبوط بنالے تو سرکاری مشینری میں بھلا کسی کی مجال ہو سکتی ہے کہ وہ من مانیاں کرتا پھرے اور وزیراعظم کا ایک مثالی سوسائٹی کی تشکیل کا ایجنڈا ہی ناکام بنانے پر تلا نظر آئے۔ ان میں ایسی جرأت تب ہی پیدا ہوتی ہے جب انہیں اوپر والوں کے معاملات بھی اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں۔ اسی لئے تو رشوت کے پیسے نیچے سے اوپر تک جانے کا تصور پختہ ہوتا ہے۔ مجھے بہرحال اپنے دیرینہ دوست کی سادگی و معصومیت اور وزیراعظم پر انکے اٹوٹ اعتماد پر ناز ہے۔ میں ان کیلئے دعا ہی کر سکتا ہوں اور یہ چند سطور ہی لکھ سکتا ہوں جو شاید انکے ممدوح تک پہنچ پائیں اور انکی دل آزاری کا ازالہ ہو جائے۔ کسی محکمہ کے آن لائن شکایت سیل کے حوالے سے میرا ذاتی تجربہ بھی ایسا ہی نتیجہ اخذ کر چکا ہے۔ شہری مسائل سے متعلق ایسے کام پہلے تو منت سماجت یا معمولی سے اثرورسوخ سے ہوجاتے تھے‘ اب اس سے بھی گئے کہ دفاتر میں جائیں تو متعلقہ افسران کا یہی گھڑاگھڑایا جواب آتا ہے کہ آن لائن شکایات سیل میں درخواست ڈال دیں۔ وماعلینا الالبلاغ۔

پاکستان میں ایک اور عالمی معیار کے ائیر پورٹ کی تعمیر زور و شور سے جاری ملک کا دوسرا ائیرپورٹ ہوگا جہاں دنیا کا سب سے بڑا جہاز لینڈ ہو سکے گا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں ایک اورعالمی معیار کے ائیرپورٹ کی تعمیر جاری۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گوادر میں سی پیک منصوبے کے تحت بین الاقوامی ائیرپورٹ کی تعمیر شروع کی جا چکی ہے، منصوبے کا تعمیراتی کام زور و شور سے جاری ہے،ائیرپورٹ کی تعمیر کیلئے فنڈز کی منظوری گزشتہ سال اکتوبر میں دی گئی تھی،

جس کے بعد باقاعدہ تعمیراتی کام کا آغاز ہوا۔ گوادر ائیرپورٹ کی لاگت میں 147 فیصد اضافہ ہوا ہے۔منصوبے پر کل 55 ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی۔ منصوبے کیلئے زیادہ تر فنڈز چین کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔ چین کی جانب سے منصوبے کی تعمیر کیلئے 34 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ 2007 میں ابتدائی طور پر گوادر ائیرپورٹ 7 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2015 میں منصوبے کو 22 ارب روپے کی لاگت سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔پھر گزشتہ برس تحریک انصاف کی حکومت نے 147 فیصد زائد لاگت سے ائیرپورٹ کی تعمیر شروع کرنے کیلئے فنڈز کی منظوری دی۔ فنڈز کی منظوری کے بعد گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تعمیراتی کام کا آغاز ہو چکا، تمام زیر التواء مسائل حل کر دیئے گئے۔ متعلقہ حکام کا بتانا ہے کہ گوادر ائیرپورٹ پاکستان کا جدید اور شاندار ترین ائیرپورٹ ہوگا۔ یہ منصوبہ مختلف وجوہات کی بنا پر کئی برس سے مکمل نہیں ہو پایاتاہم پھر وزیراعظم عمران خان نے خصوصی دلچسپی لے کر منصوبے کی تعمیر کا جلد آغاز کروانے کی بھرپور کوششیں کیں اور بالآخر ائیرپورٹ کی تعمیر کا آغاز ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق چین گوادر ائیرپورٹ کے منصوبے کی بلاجواز تاخیر پر سخت نالاں تھا، جس کے بعد وزیراعظم نے اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی لی۔ بتایا گیا ہے کہ تعمیر مکمل ہونے کے بعد گوادر ائیرپورٹ پاکستان کا سب سے جدید اور شاندار ترین ائیرپورٹ ہوگا۔ یہ پاکستان کا دوسرا ائیرپورٹ ہوگا جہاں دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ اے 380 بھی لینڈ کر سکے گا۔ اس وقتنیوز اسلام آباد ائیرپورٹ ملک کا سب سے بڑا اور عالمی معیار کے مطابق جدید ترین ائیرپورٹ قرار دیا جاتا ہے۔

عمران حکومت کا بڑا کارنامہ! پاکستان نے کتنے فیصد سستی LNG خریدلی؟ مسلم لیگ (ن)کے لیے بھی یقین کرنا مشکل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )وزارت پٹرولیم نے فروری کے مہینے کیلئے 22 فیصد کم قیمت پرایل این جی خرید لی۔

ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق پاکستان ایل این جی کمپنی نے فوری ٹینڈر کے ذریعے فروری کے مہینے کیلئے انتہائی کم قیمت پر ایک اور ایل این جی کارگو بک کیا ہے۔

اس کی قیمت اس بڈر سے تقریباً 22 فیصد کم ہے جس نے اس سے پہلے اسی کارگو کیلئے بولی واپس لے لی تھی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بحث بھی ختم ہوگئی ہے کہ اگر جلدی بکنگ کی جاتی تو قیمت کم ملتی کیونکہ ایل این جی کارگوپہلے حاصل کرنے پر سستا نہیں ملتا بلکہ رسد اور طلب کی بنیاد پر اس کی قیمت طے ہوتی ہے۔

اس سے پہلے جو ٹینڈر کیا گیا تھا اس کی ڈلیوری 49 دنوں میں جبکہ موجودہ کارگو کی ڈلیوری 35 روز میں ہوگی۔

خانہ کعبہ کے اوپر چاند کے مناظر۔۔۔ کس دن دیکھا جائے گا؟ تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

فرزندانِ اسلام کے لیے بڑی خبر، چاند کعبہ کے عین اوپر آنے کے دن اور تاریخ کا اعلان ہو گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے ماہرینِ فلکیات نے چاند کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے کے دن اور تاریخ کا اعلان کر دیا ہے، سعودی عرب کے ماہرینِ فلکیات نے بتایا کہ رواں برس چاند کے بیت اللہ کے عین اوپر آنے کا واقعہ 28 جنوری بروز جمعرات کو اُس وقت پیش آئے گا جب چاند بیت اللہ شریف کے عین اوپر ہوگا اور تمام دنیا کے مسلمان قبلے کا رُخ درست کر سکیں گے۔

فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں جمعرات کی شب مقامی وقت کے مطابق رات 10:16 منٹ پر چاند عین بیت اللہ کے اوپر نمودار ہو گا۔

واضح رہے کہ جب چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوتا ہے تو اس کی مدد سے دنیا بھر میں بسنے والے فرزندانِ اسلام کو قبلۂ رُخ کی درست سمت جاننے کا موقع مل جاتا ہے جبکہ ماضی میں بھی لوگ اس مقصد کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے تھے۔

جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے، 14 دن سے دبے 11 کان کنوں کو معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا

بیجنگ(این این آئی) چین میں تباہ ہونے والی سونے کان کے ملبے تلے دبے 11 کان کنوں کو امدادی کارکنان نے 14 روز بعد بحفاظت نکال لیا۔عالمی میڈیا کے مطابق چین کے صوبے شانڈونگ میں ریسکیو ادارے کے امددی کارکنان سونے کی کان کی 600 میٹر گہرائی میں دبے 11 کان کنوں کو دو ہفتوں بعد بحفاظت نکالنے میں کامیاب

ہوگئے ہیں۔ اس کان میں حادثے کے وقت 22 مزدور موجود تھے۔سرکاری ٹیلی وژن پر کان کنوں کے بحفاطت باہر آنے کے مناظر کو براہ راست دکھایا گیا، 7 کان کن خود چل کر باہر نکلے، 4 مزدوروں کو امدادی کارکن اٹھا کر لائے۔ کان کنوں کی آنکھیں ڈھنپی ہوئی تھیں تاکہ زیر زمین تاریکی میں دو ہفتے گزارنے کے بعد سورج کی روشنی اثر انداز نہ ہو۔کان کنوں کی زیر زمین زندہ موجودگی پر ریسکیو کام کو تیز کیا گیا تھا اور کئی ہفتوں کا کام 3 دن میں کر لیا گیا، کان کنوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا تاہم حکام نے مزدوروں کی صحت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دو ہفتے قبل چینی صوبے شانڈونگ میں واقع سونے کی ایک کان میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر دھماکا ہوا تھا اور بائیس کان کن چھ سو میٹر گہری سرنگ میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ اس حادثے کے ایک ہفتے بعد امدادی کارکنوں کو یہ معلوم ہوا تھا کہ کئی متاثرہ افراد زیر زمین زندہ ہیں۔ چین میں تباہ ہونے والی سونے کان کے ملبے تلے دبے 11 کان کنوں کو امدادی کارکنان نے 14 روز بعد بحفاظت نکال لیا۔عالمی میڈیا کے مطابق چین کے صوبے شانڈونگ میں ریسکیو ادارے کے امددی کارکنان سونے کی کان کی 600 میٹر گہرائی میں دبے 11 کان کنوں کو دو ہفتوں بعد بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔