بارش سے دھندتو چھٹ گئی مگرلاہورمیں اندھیراچھا گیا

لاہور میں موسلادھار بارش کے باعث بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ،55سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے ،متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں موسلادھار بارش کے باعث سردی کی لہر میں شدت آگئی تاہم دھند چھٹ جانے سے عوام نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا اور لیسکو کے 55سے زائد فیڈرز ٹرپ کرنے سے متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ۔فیڈرز ٹرپنگ اور دیگرفنی خرابیوں کے باعث گڑھی شاہو،قلعہ گجرسنگھ ،شادباغ،بادامی باغ،شاہدرہ ودیگر علاقوں میں بجلی بندہوگئی۔

ملک میں غیر قانونی پیٹرول پمپس کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی ہے۔ حکومت نے اسمگلنگ کے خلاف آپریشن کی تیاری کرلی ہے اور غیرقانونی پیٹرول پمپس ختم کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق

بلوچستان میں 2 ہزار 309 غیر قانونی پیٹرول پمپس ہیں جبکہ پنجاب میں ایک ہزار 364 غیر قانونی پیٹرول پمپس قائم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیرقانونی پیٹرول پمپس کی تعداد 344 ہے جبکہ سندھ میں 132 غیر قانونی پیٹرول پمپس قائم ہیں۔ آپریشن سندھ، پنجاب اور کے پی کے سرحدی اضلاع سے شروع کیا جائےگا اور تمام غیرقانونی پیٹرول پمپس سیل کیے جائیں گے۔

مایوس ہونا چھوڑیے یہ معلوماتی تحریر پڑھیے

جاب کی تلاش میں مختلف ٹیسٹ اور ٹیسٹوں کے بعد کئی مرتبہ انٹرویو دینے کا اتفاق ہو ا۔ ٹیسٹ کی تیاری کے مراحل اور مواد کی فراہمی میں پوری کوشش کرتاہوں کہ دوسروں کے ساتھ تعاون کروں ۔ انٹرویو کے حوالے سے بھی اپنے تجربات شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

جاب کی تلاش ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔اچھے بھلے قابل لوگ جاب کی تلاش اور ٹیسٹ انٹرویوز کے چکروں کی وجہ سے دل چھوڑ جاتے ہیں ۔ ان کی قابلیت اپنی جگہ یقینی ہوسکتی ہے ۔ مگر ٹیسٹ ، انٹرویو کیسے دیا جائے اس کو اپنے یا دوسروں کے تجربات سے سیکھنا پڑتاہے اسی طرح اس کی باقاعدہ تیاری کرنا پڑتی ہے ۔ ایسا نہیں کہ آپ اگر اچھے اور قابل شخص ہیں تو آپ کو ٹیسٹ ، انٹرویو کی تیاری نہیں کرنا پڑے گی ۔ اسی طرح آپ کی خوش قسمتی تو ہوسکتی ہے کہ آپ پہلی مرتبہ میں سلیکٹ ہوجائیں ورنہ عام طور پر اس کے لئے آپ کو مسلسل محنت کرنا پڑتی ہے اور کئی مرتبہ ان مرحلوں سے گزرنا پڑتاہے ۔ اس لئے دل چھوڑنے کی بجائے ٹیسٹ ، انٹرویو کی سائنس سمجھی جائے اور اس پر محنت کی جائے تاکہ آپ کی قابلیت کو اس کا حق مل سکے ۔انٹرویو میں آپ کی شخصیت اور تعلیم دوچیزیں بنیادی ہیں ۔ شخصیت میں بہت سی چیزیں آتی ہیں ۔ سب سے پہلے تو آپ کا دماغ حاضر ہونا چاہیے ۔ انٹرویو کی بنیادی چیزیں مثلاً خود کو اور مطلوبہ کاغذوں کو بروقت انٹرویو کی جگہ میں پہنچانے کا اہتما م کریں ۔ بعض لوگ ضروری کاغذات گھر بھول آتے ہیں ۔ اور وہاں جا کر کہتے ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا ، یا ہمیں تو بتایا ہی نہیں گیا تھا کہ یہ چیزیں بھی لے کر آنی ہیں ۔ آپ کی تمام اسناد ، شخصی کوائف کے کا غذات ، اور دیگر سرٹیفکیٹس ان سب چیزوں کو

لے کر جائیں ۔ اگر آپ کا کوئی مقالہ ، تصنیف یا ریسرچ ورک ہے اور جاب بھی اسی نوعیت کی ہے تو اس کو بھی ساتھ لے کر جائیں چاہے لانے کا کہا گیا ہو یا نہیں۔ اس کے بعد شخصیت میں آپ کا ظاہری حلیہ ، لباس ، اور ایسی دیگر چیزیں ہیں ۔ میرے خیال میں انٹرویو میں جانے والوں کو اتنی سینس یا ہر طرف سے یہ ہدایت کاری تو مل ہی جاتی ہے کہ وہ اچھے لباس کا انتخاب کریں ۔ لباس بہت زیادہ اوور یا عجیب نہ ہو ۔ رنگ بھی بہت نمایاں اور ڈفرنٹ نہ ہو ۔ اس سے اچھے اور برے تاثر دونوں کا برابر خطرہ ہے ۔ اگر کپڑے ہوں تو واسکٹ وغیرہ کا اہتمام کریں ، پینٹ کوٹ ہو تو اور بھی بہتر ہے ۔ لڑکیوں کے لباس کے حوالے سے میرا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔انٹرویو کی جگہ پر پہنچ کر واش روم جائیں ، بالوں ٹھیک سے سیٹ کریں ، جوتوں کو دیکھیں زیادہ گندے ہوں تو ان کو کسی طرح صاف کریں ۔ ہوسکے تو خود کو بھی دیکھ لیں زیادہ برا دکھائی دے رہے ہوں تو پھر سوچیے ۔ انٹرویو کے کمرے میں جانا ، نکلنا ، بیٹھنا ، بات چیت کرنا سبھی چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں ۔ جب جائیں سلام کریں ہاتھ ملانے کی کوشش نہ کریں ۔ خفیف سی مسکراہٹ آپ کے چہرے پر ہو ۔ بالکل نارمل اور نیچرل رہیں ۔ ہنسنا پڑ گیا ہے ہنسیں ، کوئی مسئلہ نہیں ایسا نہیں ہے کہ بالکل زبر دستی سیریس ہی رہنا ہے ۔

بلکہ آپ کے سامنے بھی آپ کی طرح کے انسان ہی ہیں اس لئے خوف مت کھائیں بلکہ دوستی کے موڈ میں بات چیت کریں اور پر اعتماد رہیں ۔ ا یسے اشارات یا حرکتیں مت کریں جن سے آپ کی پریشانی ظاہر ہوتی ہو ۔ اپنے اندر سے ڈر کو ختم کریں ۔ عا م طور پر ڈر ہوتاہے کہ ٹیسٹ کی تیاری کی ، اتنی مشکل سے یہاں تک پہنچا اب سلیکٹ نہ ہوا تو پھر نئے سرے سے ، اسی طرح معاشی حالات اور مستقبل کا خوف بھی انسان کو ڈرا رہا ہوتاہے ۔ آپ انٹرویو میں ہی نہیں اپنی زندگی میں یہ بات طے کرلیں کہ معاشی حالات ، گھریلو پریشانیاں یا مشکلات جب تک میں کسی اچھے مقام تک نہیں پہنچ پاتا ان کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں ۔یہ خوف بھی دل سے نکال دیں کہ انٹرویو میں رہ گیا تو پتہ نہیں کیا ہوجائے گا ۔ آپ رہ بھی گئے کچھ نہیں ہونے والا ۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی خاص جاب نہیں بلکہ عزت ، عافیت اور اطمینان والا رزق مانگیں ۔ اللہ پاک ضرور دیں گے اس پر بھروسہ رکھیں ۔ میرا لیکچرر کا انٹرویو تھا ، اس سے قبل کئی ٹیسٹ انٹرویو دے چکا تھا ۔ اس کے ٹیسٹ کے دوران سارا ٹیسٹ آتے ہوئے بھی میرے ہاتھ کانپ رہے تھے صرف اس خوف سے کہ اگر یہ ٹیسٹ نہ کلیئر ہوا تو پتہ نہیں کیا ہوجانا ہے ، گھر ، معاشرہ ، مستقبل یہ سب چیزیں ڈرا رہی تھیں ، اسی طرح یہ خوف بھی تھا کہ اس کے بعد

پتہ نہیں لیکچرر کی جاب کب آئیں ۔ انٹرویو میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی ۔ میں انٹرویو میں رہ گیا ۔ لیکن اللہ پاک نے اس سے بہتر جاب دیدی ۔ا س لئےکسی خاص جاب کے بارے زیادہ فکر مند نہ ہوں کہ اسی کو حاصل کرنا ہے بلکہ رزق کے اور بھی ذرائع ہوسکتے ہیں اللہ پاک نے رزق کا وعدہ کیا ہے کسی خاص جاب کا نہیں ۔جاب کے حوالے سے یہ باتیں کہ بغیر سفارش اور پیسے کے نہیں ملتی اس کو بھی ذہن سے نکال دیں ۔ میرا اپنا تجربہ بھی ہے اور کئی دوستوں نے بھی یہی بتایا کہ ان کی جاب بغیر سفارش اور پیسے کے ہوئی ہے ۔ سفارش اور پیسہ قابلیت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اس لئے قابلیت پر توجہ دیں ایسی فضول چیزوں اور خیالات کے پیچھے مت جائیں ۔ ایسانہیں ہے کہ پیسہ اور سفارش وغیرہ بالکل نہیں چلتے ہیں ان کا بھی کسی نہ کسی حد تک رول ہے ۔ لیکن آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اپنی قابلیت پر توجہ دیں آپ کی قابلیت آپ کو مزید بہتری کی طرف لے کر جائے گی نیچے نہیں لائے گی ۔ ان سب چیزوں کے بعد آپ کا علم ہے ۔ علم میں ایک توخاص اس سبجیکٹ کا علم ہے جس کی جاب ہے ۔ سبجیکٹ کی تیاری ٹیسٹ کے بعد انٹرویو میں بھی بہت اہم ہوتی ہے کیونکہ ممکن ہے چیزوں کو تازہ نہ کرنے کی وجہ سے آپ فوراً کسی چیز کا جواب نہ دے پائیں ۔ا س لئے ٹیسٹ کی تیاری

پر اکتفاء نہ کریں بلکہ جونہی پتہ چلے کہ ٹیسٹ کلیئر ہوگیا ہے دوبارہ مواد کو پڑھیں اور انٹرویو کی باقاعدہ تیاری کریں ۔ مختلف سبجیکٹ کی تیاری کی تفصیلات میں تونہیں جاسکتاہے ہاں اسلامیات کے حوالے سے کسی کو بھی گائیڈ کرسکتاہوں ۔سبجیکٹ کے علاوہ ہر انٹرویو میں مطالعہ پاکستان اور ہسٹری کا علم بہت اہم ہے ۔ اس کا تعلق چونکہ ہر انٹرویو کے ساتھ ہوتاہے اس لئے ان چیزوں کو عام حالات میں بھی زیادہ سے زیادہ پڑھیں ۔ ایک انٹرویو میں مجھ سے خاندان غلاماں کے بارے میں پوچھا گیا ، اس کے بارے کچھ نہ کچھ جانتے ہوئے بھی میں جواب اچھی طرح نہیں دے پایا ۔اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ انٹرویو کرنے والا ہندوستان کی تاریخ میں کہیں بھی چلا جائے یا اسلامی تاریخ میں کہیں سے بھی پوچھ لے آپ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں ۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ تاریخ کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا جائے ۔ کرنٹ افیئرز بہت اہم ہوتے ہیں ۔ انٹرویو کی کال آجائے تو خبریں پڑھنے ، سننے کی عادت اگر نہ بھی ہو تو جاب کے لئے ڈال لیں ۔ خبریں سننے کے بعد کچھ چیزیں جو بہت عام ہوں ان کے بارے زیادہ گہرائی سے معلوما ت حاصل کریں ۔ لیکن ان چیزوں کے بارے آپ کو اگر جواب نہیں آتا تو زیادہ پریشان مت ہوں ۔ میں نے ایک انٹرویو میں سبجیکٹ کے حوالے سے جتنی چیزیں پوچھی گئیں سب کے اچھے جواب دیے لیکن مطالعہ پاکستان کے تین چار سوال مس ہونے پر میں پریشان ہوگیا ۔

اسی پریشانی میں جب اٹھ کر باہر آیا تو پریشانی میں دماغ ماؤف ہونے کی وجہ سے میری حرکات و سکنات پر اس نے مجھے ڈس مس کردیا ۔انٹرویو میں پریشان کسی بھی حالت میں نہ ہوں ۔ آپ کو اگر ایک جواب نہیں آیا ، دو نہیں آئے ، پانچ نہیں آئے تب بھی پریشان نہ ہوں ۔ ہوسکتاہے اگلے پندرہ بیس سوالوں کے جواب آپ اچھی طرح دے لیں ۔ میرے ایک دوست نے اپنا کچھ ایسا واقعہ ہی سنایا ۔ پریشان ہونے سے آپ کا کونفی ڈینس لوز ہوتاہے اورآپ آتی ہوئی چیزوں کو بھی بھول جاتے ہیں اس لئے پریشانی کو قریب بھی نہ پھٹکنے دیں ۔ انٹرویو لینے والے کو اپنا دوست سمجھیں ، نفسیات کا بہت گہرا اثر ہوتاہے ۔ آپ جب یہ سوچ کر جائیں گے کہ اس نے تو کرنی ہی بے ایمانی یا یہ تو میرا دشمن ہے ایسی نفسیات انٹرویو پر برا اثر ڈالیں گی ۔ اس لئے اس کو دوست سمجھیں اور اس کے ساتھ گھل مل جائیں ۔ انٹرویو لینے والے سے تصادم نہیں کریں ، ضد نہیں لگائیں ۔ کسی خاص چیز کے بارے اگر وہ غلط بھی ہے تب بھی مناسب طریقے سے اس کا اظہار کریں ۔ آپ کی جذباتی کاروائی سے اس کا کچھ جائے گا نہیں اور آپ کا کچھ رہے گا نہیں ۔ فوجی معاملات ، حساس چیزیں ، دہشتگردی کی صورتحال ، سیاسی وابستگی یہ سب چیزیں بھی ایسی ہیں کہ ان میں بہت محتاط جواب دیں۔ایک چیز جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ انٹرویو لینے والے کا رخ مناسب سمت میں آپ خو د بھی تبدیل کرسکتے ہیں ۔مثلاً ایک چیز اگر نہیں آتی تو کوشش کریں کہ اس کا مختصر جواب دیں ۔ لیکن اگر کوئی چیز آتی ہے تو اس کا جواب تفصیل سے دینا شروع کردیں ۔اسی تفصیل سے مزید رخ نکلتے آئیں گے اور آپ کا انٹرویو اسی سمت میں جا تا جائے گا جس سے آپ اچھی طرح واقف ہیں ۔ تعارف کرواتے ہوئے میں بھی ایسی کسی چیز کا ذکر نہ کر بیٹھیں جس کے بارے زیادہ معلومات نہیں رکھتے ہیں ۔ ہاں اگر کسی چیز میں ماہر ہیں اس کا خاص طور پر ذکر کریں بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ انٹرویو کا رخ اسی سمت چلاجائے ۔ آپ کے مقالہ ، ریسرچ ورک اور تصنیف کی صورتحال بھی یہی ہے کہ اس میں آپ کی مہارت اگر اچھی ہے ، اس کو بہتر طور پر بیان کرسکتے ہیں تو اس کا ذکر اچھی طرح کریں ۔ اگر ان چیزوں کو پڑھ کر انٹرویو میں کچھ فائدہ ہو تو مٹھائی بھیجنا نہ بھولیے۔

جب میں روضہ رسولؐ میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہاںلوہے کے دو صندوق پڑے ہیں اور۔۔ شاہ فیصل مرحوم کے ساتھ روضہ رسول ؐ کے اندر جانے کی سعادت حاصل کرنیوالے شخص نے وہاں کیا دیکھا؟جان کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلمانوں کیلئے انتہائی مقدس جگہ مسجد نبوی ؐ تو ہے ہی مگر اس کی اہمیت صرف اس لئے نہیں کہ نبی کریمﷺ اس مسجد میں ریاست مدینہ کے معاملات اور مذہبی و دینی فرائض سر انجام دیتے رہے بلکہ مسجد نبویﷺ کے ایک حصے میں نبی کریمﷺ کے روضہ اطہر نے بھی مسجد نبویﷺ کی اہمیت میں اضافہ کر دیا۔ روضہ رسولﷺ سے عقیدت و محبت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے،

حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق ’’کوئی مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے تمام رشتوں ، مفادات اور فائدوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جائوں‘‘۔ روضہ رسولﷺ کی حفاظت اور اس کی اندرونی دیکھ بھال کیلئے سعودی حکومت کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اور کوئی بھی شخص مخصوص افراد کے علاوہ روضہ نبویﷺ میں داخل نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ شاہی خاندان کی بڑی سے بڑی شخصیت بھی روضہ رسولﷺ میں مرضی سے داخل ہونے کی جرأت نہیں کر سکتی۔ روضہ رسولﷺ کی اندرونی کیفیت اور وہاں موجود تبرکات مسلمانوں کیلئے دنیا و مافیا سے زیادہ دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ روضہ رسولﷺ کی اندرونی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے پہلی بارروضہ رسولﷺ کے اندر کے منظر الفاظ میںپیش کرتے ہوئے شیخ عائیدبن عمر الروئس نے روضہ رسول ﷺ سے متعلق 7ایسے حقائق بتائے ہیں جو اس سے قبل لوگوں کو معلوم نہیں تھے۔ شیخ عائیدبن عمر الروئس بتاتے ہیں کہ سعودی بادشاہ شاہ فیصل بن عبدالعزیز بھی وہ شخصیت تھے کہ جن کو روضہ رسولﷺ کے اندر جانے کی سعادت حاصل ہو چکی ہے، شاہ فیصل کے ہمراہ شیخ عائیدبن عمر الروئس بھی روضہ رسول ﷺ کے اندر جانے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ شیخ عائیدبن عمر الروئس بتاتے ہیں کہ جب وہ سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے ہمراہ روضہ رسولﷺ میں داخل ہوئے تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا ، ا

نہوں نے دیکھا کہ روضہ رسول ﷺ کے اندر لوہے سے بنے صندوق موجود ہیں۔ وہ صندوق مقفل تھے اور ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کے اندر کیا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں شیخ عائیدبن عمر الروئس نے بتایا کہ روضہ رسول ﷺ میں جانے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد شاہ فیصل مرحوم نے ایک شاہی حکم نامہ جاری کیا جس میں ایک کمیٹی تشکیل دئیے جانے کا حکم دیا گیا جو کہ روضہ رسول ﷺ کے اندر موجود تبرکات اور وہاں موجود اشیا کا مکمل ریکارڈ مرتب کر سکے اور روضہ رسولﷺ میں موجود ان صندوقوں کو کھول کر ان میں موجود اشیا کو بھی ریکارڈ کی فہرست میں شامل کرے۔ شیخ عائیدبن عمر الروئس مزید بتاتے ہیں کہ شاہ فیصل مرحوم کے حکم کے بعد وزارت اسلامی امور و مذہبی بندوبست، وزارت خزانہ و آڈٹ بیورو کے حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں وہ بھی شامل تھے۔ شیخ عائیدبن عمر الروئس نے مزید بتایا کہ ایک دن نماز مغرت کے بعد انہیں حکم دیا گیا کہ وہ روضہ رسولﷺ کے اندر جائیں اوروہاں موجود تبرکات اور اشیا سے متعلق سونپا گیا کام مکمل کریں۔ شیخ عائیدبن عمر الروئس نے بتایا کہ کمیٹی اراکین کے ہمراہ زیورات کا ماہر سنا راور تاریخی ریکارڈ بھی ساتھ لے لیا گیا تاکہ روضہ رسولﷺ کے اندر موجود تبرکات اور اشیا کی شناخت کے ساتھ ان کے تاریخی حوالوں کے حوالے سے بھی ریکارڈ مرتب کیا جائے۔

جب وہاں موجود لوہے کے صندوقوں کا جائزہ لیا جانے کا وقت آیا تو ان میں سے ایک کے اندر سونے اور قیمتی جواہرات برآمد ہوئے جبکہ دوسرے صندوق کو چاندی کی زنجیروں سے مقفل کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود چند اشیا کی شناخت رسول کریمﷺ سے وابستہ تبرکات کے طور پر ہوئی جن میں آپ کے روز مرہ استعمال کی اشیا بھی شامل تھیں۔ شیخ عائیدبن عمر الروئس کا کہنا تھا کہ کمیٹی اراکین کو روضہ رسولﷺ کے اندر موجود اشیا کا ریکارڈ مرتب کرنے میں 15دن لگ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی اراکین نے روضہ رسولﷺ میں موجود جواہرات کو مدینہ میوزیم میں رکھنے کی تجویز پیش کی تاکہ عوام ان کی زیارت کر سکیں جبکہ یہ جواہرات وزارت خزانہ کی نگرانی میں دے دئیے گئے جبکہ کچھ معلومات کا ذمہ دار سعودی عرب کی وزارت تعلیم کو بنایا گیا۔

وضو کے دوران منہ دھونے اور کلی کرنے کے وہ فوائد جنہیں ڈاکٹروں کی زبانی سن لیں تو آپ حیران رہ جائیں گے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وضو کے دوران منہ کو دھویا جاتا ہے، پاک کیا جاتا ہے، مسواک کا اتنا اہتمام بتلایا گیا کہ مسواک کے ساتھ پڑھی گئی نماز بغیر مسواک کے پڑھی گئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔آج اگر سائنس کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو انسان کا منہ اس کے لئے غذا کے اندر لے جانے کا ایک راستہ ہوتا ہے، اس کا Crushing Unit ہے۔ جب انسان کھانا کھاتا ہے، اگر منہ کو صاف نہ کرے اور اس میں کچھ (ذرّات) Residues بچ جائیں تو ان (ذرّات) میں کچھ عرصہ کے بعد بدبو پیدا ہوجاتی

ہے۔ گوشت اور غذا کے کچھ باریک ٹکڑے پھنس جائیں تو ان میں Fermentation پیدا ہوجاتی ہے۔ اب یہ دانتوں کے لئے نقصان دہ ہے اور ویسے بھی منہ کے اندر بدبو مچائیں گے اور منہ کے اندر جراثیم پیدا کریں گے اور پھر اسی گندادہنی کے ساتھ اگر وہ بندہ اگلا کھانا کھائے گا تو یہ منہ کی گندگی بھی Food (خوراک) کے ساتھ اس کے معدہ میں چلی جائے گی۔ انسان کے دانتوں کے اندر جو جگہیں ہوتی ہیں، وہاں جراثیم نے اپنی کالونیز بنائی ہیں۔ لاکھوں کے حساب سے جراثیم وہاں پرورش پارہے ہوتے ہیں۔ اب جو آدمی اپنے منہ کو صاف نہیں کرتا، وہ اپنی Food (غذا) کے ساتھ بیماریوں کے جراثیم خود اندر لے جارہا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بیمار کرنے کا ذریعہ بنارہا ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں اور ہر مرتبہ مسواک کے ساتھ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔آپ مجھے کوئی بندہ دُنیا میں بتادیں، جو دن میں پانچ مرتبہ برش کرکے اپنے دانتوں کو پانچ مرتبہ صاف کرتا ہو؟ دُنیا میں سب سے زیادہ صاف رہنے والا غیر مسلم بھی دن میں دو یا تین مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرے گا۔ دن میں پانچ مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرنے اور اپنے دانتوں کو برش کرنے کی سعادت کس کو نصیب ہے، یہ فقط مسلمان کو نصیب ہے۔ اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ایک وقت تھا کہ جب باہر کے ملک کا سفر کیا جاتا تھا تو لوگ اُس وقت کہتے تھے کہ صبح جانے سے پہلے برش کیا جانا چاہئے۔

دُنیا کے ذہن میں صبح برش کرنے کی عادت چھائی ہوئی تھی، مگر اب جب سائنس کی تحقیقات اور زیادہ ہوئی تو سائنس نے تھوڑا پینترا بدلا کہ صبح کے وقت برش کرنا Important (اہم) تو ہے، مگر اتنا Important نہیں ہے، جتنا کہ رات کو سونے سے پہلے برش کرنا۔ میں نے ایک ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ وہ کیوں؟ کہنے لگے کہ دن میں تو انسان بولتا رہتا ہے اور منہ کو حرکت دیتا رہتا ہے جس کی وجہ سے جراثیم کو Destruction (ہلاک) کرنے کا موقع ملتا ہے، مگر رات کو جب آدمی منہ بند کرکے سوجاتا ہے تو سارا منہ ساکن ہوتا ہے جس کی وجہ سے جراثیم کو پھلنے پھولنے کا Maximum (زیادہ سے زیادہ) وقت ملتا ہے دانتوں کو خراب کرنے کا۔ لہٰذا ڈینٹل ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کریں گے کہ رات کو جتنے دانت خراب ہوسکتے ہیں، اتنے دانت دن کو خراب نہیں ہوسکتے۔اب ویسٹ میں کہتے ہیں کہ رات کو دانت برش کرکے سونا چاہئے۔ میں نے کہا، میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بھی سوتے تھے، باوضو ہوکر سوتے تھے اور ہر وضو میں چونکہ دانت بھی صاف کرتے تھے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنا منہ صاف کرکے آرام فرماتے تھے۔ دُنیا نے تو آج کہنا شروع کیا ہے اور اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس بات کی ہمیں تعلیم دے دی ہے۔

بے نظیر اسلامی دنیا میں دلوں پر راج کرنے والی رول ماڈل تھیں ،بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے بینظیر بھٹو شہید کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ بے نظیر اسلامی دنیا میں دلوں پر راج کرنے والی رول ماڈل تھیں ،بینظیر بھٹو کا وژن پی ڈی ایم کی شکل میں زندہ ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے اپنے پیغام میں کہاہے کہ بینظیر نے کہاکہ آپ کسی کی پابند سلاسل تو سکتے ہو ، لیکن نظریہ کو نہیں ،کسی فرد کو جلاوطن تو کیا جا سکتا ہے لیکن فکر کو نہیں ،کسی آدمی کاقتل تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی سوچ کو نہیں ۔

بلاول بھٹو زرداری کاکہنا ہے کہ بھٹو کو ملک کو بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی اور دفاع کو مضبوط بنایا،بے زمین خواتین کاشتکاروں کو مالکانہ حقوق دیئے،فرسٹ ویمن بینک قائم کرنے جیسے اقدام کئے ، خواتین کیلئے علیحدہ پولیس سٹیشنز قائم کئے۔

انہوں نے کہاکہ ایک سازش کے تحت بینظیر بھٹو کو قتل کردیاگیا،ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

بھارتی اداکارہ کو خودکشی پر مجبور کرنے کے الزام میں شوہر گرفتار

بھارتی ریاست تامل ناڈو کی پولیس نے آنجہانی اداکارہ چترا کامراج کو خودکشی پر اکسانے کے الزام میں شوہر کو گرفتار کرلیا۔

بھارتی ٹی وی کی معروف اداکارہ و میزبان چترا کامراج چنئی کے مقامی ہوٹل میں 9 دسمبر کو مردہ پائی گئیں تھی اور ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔اداکارہ کی رواں سال اگست میں ہی بزنس مین ہیمانتھ سے منگی ہوئی تھی اور دو ماہ قبل ہی دونوں نے شادی بھی رجسٹرڈ کرائی تھی تاہم روایتی طور پرشادی جنوری میں ہونا تھی۔ ادکارہ نے رواں ماہ 9 دسمبر کو چنئی کے ہوٹل میں خودکشی کرلی تھی جس کے بعد ان کے گھر والوں نے پولیس سے تحقیقات کا مطالبہ کیاتھا۔

پولیس نے تحقیقات کے بعد ان کے شوہر ہیمانتھ کو اداکارہ کو خود کشی کیلئے مجبور کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔تحقیقات کے دوران پولیس نے اداکارہ کے موبائل فون سے شوہر سے متعلق ا?ڈیو پیغامات ریکور کرکے شواہد اکٹھے کیے تاہم ان کے شوہر نے یہ پیغامات ڈیلیٹ کرکے پولیس کو فون دیا تھا۔

“میں وہ ارجن نہیں ہوں جس کی نارکوٹکس فورس کو تلاش ہے” منشیات کیس میں بھارتی اداکار ارجن رامپال سے پوچھ گچھ کی تفصیلات سامنے آگئیں

ممبئی (ویب ڈیسک)بالی ووڈ کے معروف اداکار ارجن رامپال نے اپنی رہائش گاہ پر منشیات کیس سے متعلق پوچھ گچھ کے دوران نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کو بتایا کہ جس ارجن کی تلاش این سی بی کو کوئی اور ارجن ہے۔

منشیات کیس میں بھارتی اداکار کے گھر چھاپہ رواں برس نومبر کے ماہ میں مارا گیا تھا جہاں چھاپے کے دوران اداکار کے گھر سے الیکٹرانک گیجٹس اور ممنوعہ ادویات ضبط کی گئی تھیں۔

دوران تفتیش اداکار سے ممنوعہ ادویات سے متعلق پوچھ گچھ کی گئی جس پر ارجن رامپال نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کو بتایا کہ ممنوعہ گولیوں میں سے ایک دوا ڈاکٹر کی جانب سے ان کے کتے کے لیے تجویز کردہ ہے جبکہ دوسری دوا ان کی بہن انزائٹی کے لیے بطور ایس او ایس استعمال کرتی ہیں جو کہ نئی دہلی میں مقیم نفسیاتی ڈاکٹر کی تجویز کردہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ڈرگ ایجنسی نے ارجن رامپال کی گرل فرینڈ گیبریلا ڈیمٹریڈس کے بھائی ایگیزیلوز ڈیمٹریڈس کو واٹس ایپ پر ارجن کے نام سے کسی شخص سے بات کرتے ہوئے پایا تو نتیجہ اخذ کیا یہ اداکار ہے۔

 دوران تفتیش اداکار ارجن رامپال نے این سی بی افسران کو یہ بھی بتایا کہ جس شخص سے ان کے بہنوئی نے بات وہ دراصل کوئی اور ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال اکتوبر میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے اداکار کی گرل فرینڈ کے بھائی کے گھر پر چھاپے کے دوران گھر سے مبینہ طور پر منشیات بھی ضبط کی گئی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی اداکار کی گرل فرینڈ کا بھائی اداکار سشانت سنگھ کی موت سے متعلق منشیات گٹھ جوڑھ کا حصہ رہ چکا ہے۔

خیال رہے کہ بالی وڈ میں منشیات کے استعمال کا معاملہ رواں برس اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سامنے آیا تھا جنہوں نے 14 جون کو اپنے فلیٹ میں خودکشی کرلی تھی۔

ان کی موت کی تحقیقات کے دوران منشیات کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا جس کے بعد کیس میں دپیکا پڈوکون، شردھا کپور اور سارہ علی خان کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

پاکستان اگر کووڈ 19 سے نمٹ سکتا ہے تو پولیو سے کیوں نہیں، آئی ایم بی

اسلام آباد: انڈیپنڈنٹ مانیٹری بورڈ (آئی ایم بی) برائے پولیو نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کووڈ 19 سے نمٹ سکتا ہے اور اس کے پھیلاؤ کو دیکھنے کے لیے وسائل کا استعمال کرسکتا ہے تو پھر پولیو کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔

 بورڈ بین الاقوامی عطیات دہندگان اداروں کی بنیاد پر کام کرتا ہے اور ہر 6 ماہ میں ممالک کی کارکردگی پر رپورٹس جاری کرتا ہے۔

آئی ایم بی کے چیئرمین سر لیام ڈونلڈ سن کی زیر صدارت گزشتہ ماہ ہونے والے بورڈ کے 19 ویں آن لائن اجلاس کے بعد جاری کردہ اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا کہ 2016 کے آغاز سے نومبر 2020 کے اس اجلاس تک پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام (جی پی ای آئی) نے پاکستان میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔

دسمبر کے اوائل تک ملک میں ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس کے 82 کیسز اور ٹائپ ٹو ویکسین ڈرائیوڈ پولیو وائرس (وی ڈی پی) کے 104 کیسز ہوچکے تھے۔

مزید یہ کہ پاکستان اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر وی ڈی پی کے پھیلاؤ کو دیگر ممالک کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں پولیو وائرس دونوں ممالک سے باہر کمیونٹیز میں منتقل ہوسکتا ہے کیونکہ ایران میں سیوریج میں پہلے ہی یہ پایا گیا ہے۔

آئی ایم بی کا خیال تھا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر پر دباؤ زیادہ تھا کیونکہ وہ ایک ہی وقت میں کووڈ 19 اور پولیو سے نمٹ رہے تھے۔

واضح رہے کہ نومبر 2012 میں آئی ایم بی نے پاکستان پر سفری پابندیوں کی تجویز دی تھی جس کا اطلاق 5 مئی 2014 سے ہوا تھا، جس کے بعد یہ ہر کسی کے لیے ضروری ہوگیا کہ وہ بیرون ملک جانے لیے ویکسینیڈ ہو۔

ڈان کے پاس دستیاب رپورٹ کے مطابق مارچ 2020 سے آئی ایم بی نے اس حوالے سے متاثر کن باتیں سنی جس میں انسداد پولیو کے اثاثوں کی تشکیل نو کی گئی اور یہ عالمی وبا کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں بہت مدد کر رہے ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ واقعی بہت سے لوگوں نے کووڈ 19 ’سلور لائننگ‘ کی بات کی اور یہ ٹیموں کے بہتر طریقے سے مشترکہ کام کرنے، بہت سے تنظیمی اور پیشہ ورانہ حدود کو تحلیل کرنے کا حوالہ دیتی ہے، خاص طور پر کووڈ 19 کے لیے پاکستانی حکومت کے ردعمل کو تیزی سے متحرک کرنے پر لوگ پوچھتے ہیں کہ ’اگر پاکستان کووڈ 19 کے لیے یہ کرسکتا ہے تو پولیو کے لیے کیوں نہیں کرسکتا‘۔

معاون خصوصی صحت پر تبصرہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ اپنی نئی ذمہ داریوں کے ساتھ آئی ایم بی کے پہلے اجلاس میں آتے ہی ڈاکٹر فیصل سلطان نے ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں طرح کے عزم کے لیے ایک سخت بیان دیا تھا اور اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ انسداد پولیو پر ملک کی حکومت کو آپ کم نہیں پائیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس کی کارکردگی کو بڑا بہتر مظاہرہ کیا جائے گا۔

تاہم اس میں کہا گیا کہ دسمبر 2016 کے آخر میں عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ دی تھی کہ پاکستان نے ملک کے متاثرہ علاقوں کی کم تعداد سے سالانہ کیسز کی آج تک کی سب سے کم تعداد حاصل کی۔

اس وقت 2016 میں ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس کے 19 اور 2 انوائرمینٹل سیمپلز پوزیٹو فار ٹائپ 2 وی ڈی پی کیسز تھے (ایک کیس بعد میں سامنے آیا تھا)۔

تاہم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ دسمبر 2020 کے آغاز تک پاکستان میں ٹائپ ون کے 82 کیسز اور ٹائپ ٹو کے 104 کیسز تھے۔

پولیو وائرس کے ممالک کے درمیان سفر کرنے سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ اپریل سے جون 2020 کے درمیان کافی حد تک سرحد پار بین الاقوامی پھیلاؤ دیکھا گیا، مثال کے طور پر پاکستان سے افغانستان: آئیوری کوسٹ سے مالی، گیونیا سے مالی، آئیوری کوسٹ سے گھانا، گھانا سے واپس آئیوری کوسٹ، سینٹرل افریقن ریپبلک سے کیمرون اور چھڈ سے سوڈان اور جنوبی سوڈان وغیرہ۔

علاوہ ازیں ایک تکنیکی ماہر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ آئی ایم بی اس بات پر کافی حد تک ٹھیک تھا کہ کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے حکومت کی مرضی ہے لیکن 3 دہائیوں سے زیادہ میں پولیو کا مقابلہ کرنے میں یہ مخلصانہ کوشش نظر نہیں آئی۔

گوگل کا کارنامہ آپ کو ہنسنے پر مجبور کردے گا

گوگل و وکی پیڈیا مشہور ترک ڈرامے ‘ارطغرل غازی’ میں ‘حلیمہ سلطان’ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ ایسرا بلگچ کو پاکستانی اداکار یاسر حسین کی والدہ کے طور پیش کر رہا ہے۔گوگل پر معروف شخصیات کو سرچ کریں تو ان کی معلومات پر مبنی ایک ’پیپل کارڈ‘ نمودار ہوتا ہے جس پر سرچ کی گئی شخصیت کا نام، تاریخ پیدائش، والدین کا نام وغیرہ وغیرہ درج ہوتا ہے۔ لوگ اس کارڈ میں مہیا کی گئی معلومات پر بدرجہ اتم یقین رکھتے ہیں کہ آخر یہ گوگل کی طرف سے مہیا کی جا رہی ہوتی ہیں۔گوگل پر اداکار یاسر حسین کا نام سرچ کرنے پر سامنے آںے والی تفصیلات اور وکی پیڈیا کے سیکشن میں ایسرا بلگج کو یاسر کے والدین کے طور پر پیش کر رہا ہے تاہم یہ غلطی ممکنہ طور پر گوگل کے الگورتھم کی وجہ سے ہو رہی ہے۔واضح رہے یاسر حسین حالیہ چند ماہ میں ترک ڈرامے کے کرداروں پر تنقید کرتے دکھائی دیئے۔یاد رہے کہ اس سے قبل واں برس اکتوبر میں گوگل نے بھارتی اداکارہ انوشکا شرما کو افغان کرکٹر راشد خان کی اہلیہ کے طور پر پیش کیا تھا۔