247 کروڑ کی مالک! بالی ووڈ کے 4 وہ مشہور اداکار جو مرنے کے بعد اربوں روپے کی دولت کے اثاثے چھوڑ گئے

گزشتہ دو ماہ بالی ووڈ انڈسٹری کے لیے بالکل اچھے نہیں رہے، اپریل کے آخر میں بالی ووڈ نے اپنے دو بہترین اداکار کھو دیے جن میں رشی کپور اور عرفان خان شامل ہیں جبکہ گزشتہ ماہ جون کے مہینے میں اداکار سشانت سنگھ نے خودکشی کرلی۔

کچھ سال قبل بالی ووڈ کی مایہ ناز اداکارہ سری دیوی اپنی جان کی بازی ہار گئی تھیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے یہ پسندیدہ اداکار اپنے پیچھے کتنے مالیت کے اثاثے چھوڑ کر گئے ہیں، اور وہ اثاثے کس کے نام ہیں؟

سری دیوی

تفصیلات کے مطابق سری دیوی کا شمار بالی ووڈ کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں ہوتا تھا جب کہ کئی بار انہوں نے فلموں میں ہیرو کے مقابلے میں بھی زیادہ معاوضہ حاصل کیا۔ سری دیوی نے اداکارہ کے علاوہ بطور ماڈل بھی کام کیا جب کہ وہ فلم پروڈیوسر بھی رہ چکی تھیں۔

انگلش ونگلش میں اداکاری کے بعد سری دیوی کی سالانہ آمدنی 13 کروڑ روپے تھی جبکہ ان کی کل آمدنی247 کروڑ تھی جس میں ان کے پرتعیش بنگلے اور مہنگی کاریں بھی شامل ہیں۔ سری دیوی کے پاس7 کاریں تھیں جن کی قیمت مجموعی طور پر 9 کروڑ تھی جن میں دو بینٹلی، اوڈیز اور فورڈز کاریں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ان کے پاس 3 خوبصورت بنگلے بھی تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سری دیوی کی موت کے بعد ان کی جائیداد ان کی دونوں بیٹیوں خوشی اور جھانوی کپور کو منتقل کی گئی جبکہ ان کے شوہر بونی کپور اس میں حصے دار نہیں ہیں۔

عرفان خان

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار عرفان خان کے نام 320 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثے ہیں، عرفان خان کا ممبئی میں ایک گھر ہے، اس کے علاوہ عرفان خان کا جوہو میں ایک فلیٹ بھی ہے۔

اداکار کے نام دنیا کے معروف برینڈ کی گاڑیاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عرفان خان ایک فلم میں کام کرنے کا تقریباً پندرہ کروڑ معاوضہ لیتے تھے جبکہ کسی اشتہار میں کام کرنے کے لیے چار سے پانچ کروڑ وصول کرتے تھے۔ اداکار کی وفات کے بعد ان کی تمام دولت ان کے بچوں اور اہلیہ کے نام کی گئی۔

رشی کپور

رشی کپور بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار تھے، اداکار کی بھارت میں لاتعداد پراپرٹیاں ہیں اس کے علاوہ ان کا نیویارک میں بھی ایک فلیٹ ہے جہاں یہ اپنے علاج کے دوران قیام پذیر تھے۔ رشی کپور کو مختلف اور نئی نئی گاڑیاں رکھنے کا بےحد شوق تھا، ان کے گیراج میں ہر نئی گاڑی موجود ہے۔ رشی کپور نے اپنی تمام دولت بیوی نیتو کپور، بیٹے رنبیر کپور اور بیٹی ردھیما کپور کے نام کی ہے۔

سشانت سنگھ راجپوت

پوری بالی ووڈ انڈسٹری میں سناٹا چھا گیا جب پتہ چلا کہ زندگی سے بھرپور نامور اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی۔ تفصیلات کے مطابق اداکار سشانت سنگھ ایک فلم میں کام کرنے کے تقریبا 5 سے 7 کروڑ روپے لیا کرتے تھے۔ ان کے نام بھارت میں کئی پراپرٹیاں ہیں۔

شادی کے بعد پہلی دعوت ۔۔۔ نادیہ خان کی جویریہ سعود کے گھر سے چند نئی تصاویر

شادی کے بعد نوبیاہتا جوڑے کی دعوتوں کا سلسلہ ایک عام رواج ہے چاہے خاندان میں ہوں یا دوستوں میں مگر دعوتیں اور تحفے تحائف کا یہ حسین سلسلہ چلتا رہتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ سب عزیز و اقارب نئے جوڑے کو اپنی محبت و دعائیں یوں کھانے پر بُلا کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شادی کی تقریبات میں دلہن اور دولہا سے اچھی طرح مل جُل کر بیٹھ کر باتیں نہیں کر پاتے تو ان کو دعوت پر بلا لیتے ہیں۔

حال ہی میں پاکستانی اداکارہ نادیہ خان کی شادی کیپٹن فیصل ممتاز راؤ کے ساتھ ہوئی تھی جس کے بعد اداکارہ جویریہ سعود نے نادیہ کو ان کے شوہر کے ہمراہ شادی کی دعوت پر اپنے گھر ڈنر پر مدعو کیا۔ جویری سعود نے گزشتہ روز نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں کیپشن میں لکھا کہ:

” نئے شادی شدہ جوڑے کے ساتھ میرے گھر پر ڈنر کی ایک اچھی تقریب۔” تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اداکارہ جویریہ اپنے شوہر سعود، نادیہ خان اپنے شوہر فیصل اور دیگر ٹی وی اداکار ایک ساتھ ہیں اور سب ہی بہت خوش ہیں۔

یہ نانی بھی ہیں لیکن لگتی نہیں۔۔۔ مریم نواز اپنے خاندان کے بچوں کے ساتھ، دیکھیں ان کی چند تصاویر جو آپ نے پہلے نہیں دیکھی ہوں گی

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف آئے روز ہی خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ مریم نواز نانی بھی ہیں لیکن انہیں دیکھ کر لگتا بالکل نہیں۔

علاوہ ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر مریم نواز اپنے خاندان کے بچوں کے ہمراہ تصاویر شئیر کرتی ہیں اور مداحوں نے ان کی تصاویر پر خوب تعریفیں بھی کی ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں مریم نواز کی ان کے بیٹے اور خاندان کے بچوں کے ہمراہ چند خوبصورت تصاویر۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سردیوں میں ایک دوسرے کو چھونے سے کرنٹ کیوں لگتا ہے؟

سردی میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں یا ایک دوسرے کے قریب سے گزر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک کرنٹ لگ جاتا ہے۔ یا کبھی کسی دھات کی بنی ہوئی چیز کو چھو لیں تو اس سے بھی کرنٹ محسوس ہوتا ہے، بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ سر کے اوپر پہنی ہوئی ٹوپی جب اتاریں تو بال ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے کرنٹ لگ گیا ہو اور ہلکا سی آواز بھی آنے لگتی ہے مگر کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

وجہ:

٭ دراصل ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ جب دو مختلف قسم کے مادے ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھاتے ہیں تو ان میں سے ایک اپنے الیکٹرون چھوڑ کر منفی(-) چارج ہو جاتا ہے اور دوسرا مثبت(+) چارج ہوجاتا ہے۔

٭ جب دونوں چارج شدہ مٹیریل کسی مخالف چارج رکھنے والے اجزاء سے ملتے ہیں تو منفی چارج والے مادے سے الیکٹران مثبت چارج والے مادے کی طرف کشش کھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم سردی میں چیزوں کو ہاتھ لگاتے ہیں تو الیکٹران کی منتقلی کی وجہ سے کرنٹ لگتا ہے۔

اس قسم کے کرنٹ کو اسٹیٹک شاک کہتے ہیں جو کہ گرمیوں میں بہت ہی کم لگتے ہیں کیونکہ گرمیوں میں ہوا میں نمی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کے باعث جسم سے چارج مستقل ہوا میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ سردیوں میں ہوا خشک ہونے کی وجہ سے یہ جسم پر ہی جمع رہتے ہیں اور بالآخر کسی چیز کو چھو کر جھٹکے کی شکل میں نکلتے ہیں۔

وہ پتھر جس پر حضرت ابراہیمؑ نے کھڑے ہو کر بیت اللّٰہ کی تعمیر کی، کیا آپ جانتے ہیں کہ مقامِ ابراہیم میں کب اور کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں؟

سعودی عرب میں تمام مسلمانوں کے مقدس مقامات موجود ہیں ان ہی میں مسجد الحرام کے صحن میں مقام ابراہیم مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے، ماضی سے اب تک مقامِ ابراہیم میں متعدد تبدیلیاں ہوئیں ہیں تاہم مقامِ ابراہیم دراصل کیا ہے پہلے یہ جاننا ضروری ہے۔

مقامِ ابراہیم کیا ہے؟

مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس کے پاس امام کا مصلیٰ ہوتا ہے یہ وہ پتھر ہے جس پر سیدنا ابراہیمؑ نے کھڑے ہو کر بیت اللہ کی تعمیر کی تھی جب دیوار اونچی ہونے لگی تو سیدنا اسماعیلؑ یہ پتھر لے آئے تا کہ سیدنا ابراہیمؑ اس پر کھڑے ہو کر مزید دیوار کی تعمیر کر سکیں اور سیدنا اسماعیلؑ نیچے کھڑے ہو کر دیوار میں لگانے والے پتھر دینے لگے۔

جب انہوں نے ایک جانب کی دیوار مکمل کی تو دوسری جانب چلے گئے اس طرح بیت اللہ کے چاروں جانب کی دیواریں اس پتھر پر کھڑے ہو کر مکمل فرمائیں اور اس پر سیدنا ابراہیمؑ کے قدموں کے نقش موجود ہیں۔

مقام ابراہیم کی تجدید کئی بار ہوئی ہے، یہ تبدیلیاں کیا ہیں اور کب کب ہوئی ہیں آج ہم آپ کو چند اہم معلومات فراہم کریں گے۔

• شاہ فیصل کا دور

مقامِ ابراہیم کا سنہرا بکس شیشے کا ہے، اس کے اندر محفوظ پتھر پر دو قدموں کے نشانات نمایاں ہیں، مقامِ ابراہیم والا یہ بکس گنبد نما ہے، جو کہ لکڑی کا بنا ہوا ہے یہ بکس چار ستونوں پر رکھا ہوا ہے۔

اس کے اندر موجود پتھر پر دو قدموں کے نشان بنے ہوئے ہیں، جبکہ قدموں کے نشانات شفاف گلاس کے باعث ہر طرف سے دیکھے جا سکتے ہیں، 1387 ہجری تک اس کی شکل مختلف تھی جسے شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے عہد میں تبدیل کر دیا گیا اور طواف کرنے والوں کی سہولت کے لیے مقام ابراہیم کے گنبد کو ختم کرکے شفاف گلاس والے بکس میں تبدیل کر دیا گیا۔

• شاہ فہد کا دور

مقام ابراہیم کی ترمیم شاہ فہد بن عبدالعزیز کے عہد میں کی گئی، ان کے دور میں مقامِ ابراہیم میں سنہری جالی لگائی گئی، تاہم اُس وقت مقامِ ابراہیم کا پینل دھات کا تھا اس پر ایک اور پینل رکھا گیا، ترمیم کے بعد اعلی درجے کے پیتل سے نیا بکس تیار کیا گیا، جبکہ سنہری جالی اندر سے لگائی گئی اور اس کے اوپر سنہرہ گنبد بنایا گیا۔

مقامِ ابراہیم کا سٹینڈ سیاہ گرینائٹ کا تھا جس کو تبدیل کرکے کنکریٹ کی پرت لگائی گئی اور شفاف سفید سنگِ مرمر سے ایک اور سٹینڈ تیار کیا گیا۔

خیال رہے کہ اس ترمیم کے بعد مقام ابراہیم کا حدود اربعہ کم ہو گیا اور اس کی وجہ سے طواف کرنے والوں کو زیادہ سہولت ہو گئی۔

خیال رہے کہ مسجد الحرام کی انتظامیہ مقام ابراہیم کی صفائی اور اس کے بیرونی حصے کو چمکانے کا خصوصی اہتمام کرتی ہے۔

طلبا کی سن لی گئی، وزیر تعلیم شفقت محمود نے خوشخبری سنا دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے آن لائن امتحانات کیلئےہایئرایجوکیشن کمیشن سےرابطہ کرلیا ۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ’’کچھ یونیورسٹیوں کےطلبہ آن لائن امتحانات کا مطالبہ کررہےہیں، یہ

یونیورسٹیوں کا فیصلہ ہوگا کہ وہ کیا کرتے ہیں لیکن ایچ ای سی کوکہاہےیونیورسٹیوں کےوائس چانسلرزسےرابطہ کیاجائے اور دیکھاجائے کہ خصوصی حالات میں کیاآن لائن امتحانات ممکن ہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں کودیکھناہوگاکہ کیاان میں یہ تکنیکی صلاحیت ہے، کہ وہ تمام طلبا کا امتحان لے سکیں ؟کسی کوبھی پیچھےنہیں رہناچاہیے۔یقینی بناناہوگاآن لائن امتحان سےگریڈزبڑھانےکیلئےغلط فائدہ نہ اٹھایاجائے ۔اچھاسوالنامہ ضروری ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ شام سے ٹوئٹر پر طلباء کی جانب سے آن لائن امتحانات کے لیے ٹرینڈ بنایا گیا تھا۔ طلباء کا مطالبہ تھا کہ اگر پڑھائی آن لائن کی ہے تو امتحان بھی آن لائن ہونا چاہیے۔ طلباء کے مطالبے پر اب وفاقی وزیر تعلیم کی جانب سے آن لائن امتحانات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ طلبا کو بغیر امتحانات اگلی کلاسز میں پروموٹ کیا جائیگا یا نہیں؟ وزیرتعلیم نے واضح فیصلہ سنا دیا وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کورونا کے معاملے پر اسکولوں کو ڈس انفیکٹ کیا گیا۔پرائمری ، مڈل، یونیرسٹیز کھولنے جا رہے ہیں۔کورونا میں پہلے 6 اور پھر پونے دو ماہ سکول بند رہے۔چھٹیوں کے ہوم ورک اور ایم سی کیوز پر اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ہر جگہ دیکھا ہے کہ ایس او پیز پر عمل ہو رہا ہے۔ٹی وی پر تعلیم گھر پروگرام شروع کیا۔پرائمری اسکولز کے اندر یکساں نصاب لاگو ہو گا۔اس بار کسی بھی طالب علم کو امتحانات کے بغیر پروموٹ نہیں کیا جائے گا۔سکولز میں 50 فیصد بچے آئیں گے اور بقیہ بچے اگلے روز آئیں گے۔ پرائیویٹ سکولز کی رجسٹریشن پہلی مرتبہ آن لائن کی گئیں۔ اسکولز میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرایا گیا، بچوں کے ہوم ورک کے لیے خصوصی ورک شیٹس بنائی گئیں۔مراد راس نے مزید کہا کہ رولز بنانا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد مشکل ہے۔ تعلیمی نقصان کے ازالے کے لیے اقدمات کر رہے ہیں۔قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا تھا کہ 18 جنوری سے تعلیمی ادارے

کھولنے جا رہے ہیں،اگر تعلیمی ادارے دوبارہ بند کرنا پڑے تو فوری کر دیں گے۔وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ 18 جنوری نویں دسویں کی کلاسز کھل جائیں گے۔کورونا کے دوران تعلیم کا سب سے زیادہ نقصان ہوا،25 سے پہلے پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کلاسیں کھل جائیں گی۔ جب کہ یکم فروری سے یونیورسٹیاں بھی کھول دی جائیں گی۔ایک وقت میں سکول میں 50 فیصد سے زائد نچوں کی بٹھانے کی اجازت نہیں ہو گی۔مراد راس نے مزید کہا کہ اگر سکولز دوبارہ بند کرنا پڑے تو فوری طور پر بند کر دیں گے۔امتحانات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں امتحانات اگست میں ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ امتحانات مئی میں ہوں۔

استعفے بھی لانگ مار چ بھی۔۔!! (ن)لیگ نے اچانک بڑا اعلان کر دیا،

لاہور (نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ ن نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا باضابطہ فیصلہ کرلیا ہے، اس فیصلے کی ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے توثیق بھی کردی ہے۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے زیر صدارت ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مریم نواز نے پارٹی قائد میاں نواز شریف کا پیغام بھی ارکان کو پہنچایا۔اجلاس میں سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا جس کی پارلیمانی پارٹی نے توثیق

کردی۔ اس موق پر اپنے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ ن لیگ سینیٹ الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی، پارلیمان میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے، حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے، پورا پاکستان ن لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن لڑنا چاہتا ہے، استعفے بھی دیں گے اور لانگ مارچ بھی ہوگا، استعفوں کا فیصلہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کرے گی اور اسے تمام جماعتیں تسلیم کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مذاکرات کیلئے منتیں کر رہی ہے، جتنے مرضی رابطے کرلیں حکومت مزید نہیں چل سکتی، جن قوتوں کو ہم سیاست اور سیاسی میدان سے نکالنا چاہتے ہیں وہ دور رہیں گے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ جبر اور زیادتوں کے باوجود ارکان اجلاس میں شریک ہوئے، خوشی ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود تمام ارکان نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔


کنٹریکٹ ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری ،حکومت نےمستقل کرنیکافیصلہ کرلیا

لاہور(ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب کابینہ کا 40 واں اجلاس، یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس میں اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی، کابینہ نے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے لئے ڈرافٹ پیش کرنے کی منظوری دی جبکہ سیالکوٹ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام اور پنجاب آب پاک اتھارٹی کے رولز کی بھی منظوری دی گئی۔اسی طرحاجلاس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے، ریور راوی اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم اور ریور راوی اتھارٹی کو مزید قرضہ دینے کی منظوری بھی دی گئی۔

طلباو طالبات کیلئے بڑی خوشخبری ۔۔ حکومت نے شاندار اعلان کردیا،والدین کو بھی بڑا ریلیف ملے گا

پشاور(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کی معاون خصوصی اوراحساس کفالت پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 73فیصد سروے مکمل کرلیا ہے ،جلد قابل طلبہ کو سکالرشپ دینگے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں پشاور میں احساس کفالت پروگرام سے متعلق اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ثانیہ نشتر نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں سروے کے لئے مقامی اساتذہ سے مدد لے رہے ہیں ، احساس پروگرام کے تحت

مسحتق افراد سے متعلق تہتر فیصد سروے مکمل ہو چکا ہے ،اسکالر شپ پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے، وزیراعظم نےوفاقی وزرا اور ترجمانوں کا اہم اجلاس طلب کرلیااحساس اسکالرشپ دے کر ہم کسی پر کوئی احسا ن نہیں کررہے ہیں یہ طلبہ کا حق ہے اور ایک سو انیس یونیورسٹیز کے طلبہ اس پروگرام سے مستعفید ہورہے ہیں ۔انڈرگریجویٹ اسکالر شپ پروگرام طلبہ میں بہت مقبول ہوچکا ہے اوراس میں طلبہ گہری دلچسپی کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت سکالرشپ سمیت کئی فلاحی منصوبے شروع کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پروگرام میں حصہ لینے والے افراد کیلئے شفاف طریقے سے تعین کیا جاتا ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو اور مستحق افراد کو ان کا حق ملے ۔محکمہ پولیس اورمحکمہ تعلیم سے وابستہ افراد نے حق داروں کی تفصیلات اکٹھی کرلی ہیں اوراب خیبرپختونخوا کے مستحق افراد میں

جلداحساس پروگرام کے تحت پیسےبھی دیئے جائیں گے ۔ ، وزیراعظم نےوفاقی وزرا اور ترجمانوں کا اہم اجلاس طلب کرلیااحساس اسکالرشپ دے کر ہم کسی پر کوئی احسا ن نہیں کررہے ہیں یہ طلبہ کا حق ہے اور ایک سو انیس یونیورسٹیز کے طلبہ اس پروگرام سے مستعفید ہورہے ہیں ۔انڈرگریجویٹ اسکالر شپ پروگرام طلبہ میں بہت مقبول ہوچکا ہے اوراس میں طلبہ گہری دلچسپی کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت سکالرشپ سمیت کئی فلاحی منصوبے شروع کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پروگرام میں حصہ لینے والے افراد کیلئے شفاف طریقے سے تعین کیا جاتا ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو اور مستحق افراد کو ان کا حق ملے ۔محکمہ پولیس اورمحکمہ تعلیم سے وابستہ افراد نے حق داروں کی تفصیلات اکٹھی کرلی ہیں اوراب خیبرپختونخوا کے مستحق افراد میں جلداحساس پروگرام کے تحت پیسےبھی دیئے جائیں گے ۔

حکومت کا 70 ہزار خالی آسامیاں اور 117 ادارے ختم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 70 ہزار سرکاری خالی آسامیاں جب کہ 117 ادارے ختم اور ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزارتوں اور ڈویژنوں میں گریڈ ایک تا سولہ کی 70 ہزار خالی آسامیاں ختم کرنے کی تیاری کرلی گئیس کے علاوہ وفاقی حکومت کے 117 ادارے ختم اور ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت کے اداروں کی تعداد 441 سے کم کرکے 324 کی جارہی ہے۔ملازمین کے بنیادی پے اسکیلز،تنخواہوں و مراعات کے بارے میں بھی پے اینڈ پنشن کمیشن فروری 2021 میں رپورٹ پیش کرے گا۔ ایف بی آر،ایس ای سی

پی،اسٹیٹ بینک ،پی آئی اے،سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ریلویز میں گورننس کی بہتری کیلئے متعلقہ وزارتوں سے مل کر اصلاحات لانے کیلئے کام کیا جارہا ہے۔حکومت کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے کفایت شعاری و تنظیم نو نے پیش رفت کی رپورٹ تیار کرلی ہے۔ ٹاسک فورس برائے کفایت شعاری و تنظیم نو کی رپورٹ منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش ہوگی۔’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب ،ٹاسک فورس برائے کفایت شعاری کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزارتوں اور ڈویژنوں میں ایک سال سے خالی پڑی 70 ہزار

آسامیاں ختم کرنے کی سمری تیار کی جارہی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے اداروں کی تعداد 441 سے کم کرکے 324 کردی گئی ہے۔ وفاقی اداروں کی اقسام 14 سے کم کرکے ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ،خود مختار اداروں اور قانونی اداروں پر مشتمل تین مختلف کٹیگریز کردی گئی ہیں۔ٹاسک فورس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رولز اینڈ بزنس میں کمی لانے اور سادہ بنانے کیلئے کام جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ای گورننس کے لئے روڈ میپ کی پہلے ہی منظوری دی جاچکی ہے اوروزارتوں و اداروں کی ویب سائیٹس کو تھری جی ورژن میں اپ گریڈ کردیا گیا ہے جبکہ ویب پورٹلز کی تیاری پر کام جاری ہے۔ جلد ویب پورٹلز لانچ کردیئے جائیں گے۔علاوہ ازیں تمام وزارتوں اور ڈویژنوں میں ای گورننس اور ویب پورٹلز لانچ کرنے کا کام ایڈوانس مرحلے پر ہے۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ رواں ماہ کے آخر تک کام مکمل کرلے گا۔کابینہ ڈویژن سمریاں تیار کررہی ہے جس میں رولز اینڈ بزنس میں کمی لانے اور سادہ بنانے اور ای گورننس کا عمل جون 2021 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق سول انتظامیہ کے اخراجات جاریہ نامینل ٹرم میں منجمد کردیئے گئے ہیں تاہم سول انتظامیہ کے اخراجات میں حقیقی بنیادوں پر کمی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق وزارتوں اور ڈویژنوں کو وزارتوں اور اپنے ماتحت اداروں میں ایم پی اسکیلز اور اسپیشل پے اسکیلز پر دنیا بھر سے قابل ،ماہر پروفیشنلز بھرتی کرنے کیلئے اشتہارات دینے کی اجازت دے دی گئی

ہے جبکہ حکومتی اخراجات کم کرنے کے لئے کرائے کی عمارتوں میں قائم وزارتوں اور ڈویژنوں کو حکومت کے ملکیتی کوہسار بلاک میں منتقل کیا گیا ہے۔انٹرٹینمنٹ پر پابندی، عوامی منصوبوں کے لیے نئے قواعداسی طرح کامرس اور ٹیکسٹائل ڈویژن اور پوسٹل اینڈ کمیونیکیشن ڈویژن کو آپس میں ضم کیا گیا ہے ۔وفاقی حکومت میں انٹرٹینمنٹ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کے زیادہ سے زیادہ موثر استعمال کیلئے بھی اقدامات کیے گئے ہیں جس کے تحت پی ایس ڈی پی اسکیموں کیلئے ڈویژنوں کی جانب سے منظوری کی حد بڑھا کر دو ارب روپے تک کردی گئی ہے اور اب ڈویژنز خود سے دو ارب روپے تک کی پی ایس ڈی پی کی اسکیمیں منظور کرسکتی ہیںخزانہ ڈویژن نے پی ایس ڈی پی اسکیموں کیلئے سہ ماہی بنیادوں پرفنڈز جاری کرنے کا نظام متعارف کروادیا ہے اور فنڈز جاری کرنے کے مراحل کو سادہ بنادیا گیا ہے۔ وزارتوں اور ڈویژنوں میں پرنسپل اکاونٹنگ آفیسز کے اختیارات بڑھادیے گئے ہیں۔