ساری دنیا عمران خان کی دیوانی مگر خود عمران خان پاکستان کے کس کرکٹر کے بہت بڑے فین ہیں ؟ نام جان کرآپ یقین نہیں کریں گے

عمران خان نے نجی ٹی وی چینل پر آفتاب اقبال کے پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سیاست میں اگر ہوں تو اس ملک کے پوٹینشل کی وجہ سے ،آفتاب اقبال نے سوال کیا کہ ملک کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں مگر آپ اس حال میں بھی بہت مثبت نظر آتے ہیں ، آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟

عمران خان نے جواب دیا کہ میرے سیاست میں ہونے کیوجہ یہ ہے کہ اس ملک میں بہت پوٹینشل موجود ہے، یہاں محمد عامر جیسے لوگ موجود ہیں جن کی بدولت پاکستان کا نام روشن ہوتا ہے تو میں کیسے اتنے پر صلاحیت لوگوں کی موجودگی کے باوجود منفیت اختیار کروں.

پی ڈی ایم کا قصہ ختم ۔۔۔ اب آگے کیا ہو گا ؟

لاہور(ویب ڈیسک) گذشتہ روز ہونے والے پی ڈی ایم کے مشترکہ اجلاس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل اکاؤنٹ نے کسی کی موت کے وقت تعزیت کے طور پر ادا کیے جانے والی اصطلاح ‘آر آئی پی’ کو پی ڈی ایم سے جوڑ کر ٹوئٹر پر

وائرل کر دیا ہے ۔مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز سے منسلک صحافی اور تجزیہ کا مظہر عباس نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج پی ڈی ایم تحریک کو جمہوری پروٹوکول کے ساتھ بالآخر سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ تمام رہنماؤں نے اس کی آخری رسومات میں شرکت کی اور کچھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی۔’میں نے خود حزب مخالف اتحاد کو اسلام آباد میں منہدم ہوتے دیکھا۔ پی ٹی آئی اب پی پی پی کی جانب سے نامزد کردہ دوستانہ رہنما حزبِ اختلاف کی حمایت کر سکتی ہے۔’اکثر صارفین نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ماضی میں ہونے والے اختلافات کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ اس بات کے امکانات تو بہت عرصے سے تھے کہ دونوں کے درمیان پھوٹ پڑ سکتی ہے۔کچھ افراد پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کے اس اتحاد کے آغاز میں ہی دیے گئے بیان کی نشاندہی کرتے دکھائی دیے جس میں انھوں نے آصف علی زرداری سے شراکت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔دوسری جانب صحافی کامران یوسف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘زرداری کی جانب سے استعفوں کے حوالے ہچکچاہٹ کے حوالے سے جس جانب کسی کی بھی نظر نہیں جا رہی وہ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ موجود ہے اور وہ افغانستان میں امن عمل سے متعلق کسی بھی ٹھوس معاہدے سے قبل یہ نہیں چاہے گی کہ یہاں حکومت میں تبدیلی آئے۔’اس دوران سوشل میڈیا پر ‘ایک زرداری سب پر بھاری’ جیسی ٹویٹس بھی

دیکھنے کو ملیں اور جہاں کچھ صارفین آصف زرداری کی سیاسی بصیرت کے مداح دکھائی دیے تو کچھ انھیں ‘اپنے مفاد پر سمجھوتا نہ کرنے والا سیاست دان’ کرتے نظر آئے۔اس بارے میں صحافی ضیا الدین نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا ‘کیا آپ کو یاد ہے کہ زرداری نے ہی نواز شریف کو 2008 کے الیکشنز میں حصہ لینے پر آمادہ کیا تھا جب وہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ بن کر اس کے بائیکاٹ کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اے پی ڈی ایم چوہدری نثار کا منصوبہ تھا اور آصف زرداری کے مشورے پر ہی نواز شریف نے الیکشنز میں حصہ لینے کے بارے میں سوچا تھا۔’جہاں ہر کوئی گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تبصرے کرتے دکھائی دیے وہیں اس بارے میں صحافی حسن زیدی نے کہا کہ ‘اس وقت پی ڈی ایم جماعتوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ ماضی سے سیکھ کر اپنے نظریے میں کیا تبدیلی لا سکتے ہیں اور انھیں کیا لگتا ہے کہ نظام میں کیا غلط ہے۔’انھوں نے کہا کہ اگر آپ کا جواب عمران خان اور تحریک انصاف کے گرد گھومتا ہے تو آپ کا نظریہ مختلف ہو گا، لیکن اگر یہ اس سے کہیں وسیع ہے تو آپ کا جواب مختلف ہو گا۔’ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو سوچنا ہو گا کہ وہ اپنی پہچان کیا بنانا چاہتی ہیں اور وہ کیا چاہتی ہیں کہ تاریخ میں اس تحریک کو کیسے یاد کیا جائے

راوی کنارے بسائے جانے والے نئے شہر کیلئے کتنے ہزار میگا واٹ بجلی مانگ لی گئی، کمپنی حکام نے ڈیمانڈ آنے کے بعد سر جوڑ لئے

لاہور( این این آئی)لاہورالیکٹرک سپلائی کمپنی سے راوی کنارے بسائے جانے والے نئے شہر کے لئے تین ہزارمیگا واٹ بجلی مانگ لی گئی ، لیسکو حکام نے منصوبے کی فزیبیلٹی رپورٹ بنانے کے کام کا آغاز کردیا ۔بتایا گیا ہے کہ اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لیسکوکو تین ہزار میگاواٹ بجلی دینے کی ڈیمانڈ کردی ہے

جبکہ لیسکو کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم چار ہزار میگاواٹ سے زائد لوڈ پر چل ہی نہیں سکتا۔ ذرائع نے بتایا کہ تین ہزار میگاواٹ اضافی لوڈ آنے پر شہر کو بجلی نہیں دی جا سکے گی،نئے شہر میں نو بڑے گرڈ سٹیشنز کا ابتدائی پلان اور نقشہ فراہم کردیا گیا ہے۔نئے شہر میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین گرڈ سٹیشنز کا قیام عمل میں لایا جائے گا، لیسکو حکام نے منصوبے کی فزیبیلٹی رپورٹ بنانے کے کام کا آغاز کردیا ہے ،نئے شہر کو لاہور شہر کی بجلی ہی فراہم کی جائے گی، منصوبے میں گرڈ سٹیشنز کا نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے، متبادل نظام فراہم نہ کیا تو لاہور کا بیشتر حصہ اندھیرے میں ڈوبا رہے گا، لیسکو حکام نے نئے شہر کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے سرجوڑ لیے ہیں۔

جاوید چوہدری کی ایک دنگ کر ڈالنے والی تحریر

ہم نے اپنی 14 سو سالہ تاریخ میں اغیار کو اتنا فتح نہیں کیا جتنا ہم ایک دوسرے کو فتح کرتے رہے‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی مسلمانوں نے دنیا کا 95 فیصد علاقہ اسلامی عروج کی پہلی صدی میں فتح کر لیا تھا‘ مسلمان اس کے بعد

ساڑھے تیرہ سو سال اس علاقے کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے رہے‘ ہمارے علم‘ فلسفے‘ سائنس اور ایجادات کی 95 فیصد تاریخ بھی ابتدائی تین سو سال تک محدود تھی۔ ہم نے واقعی ہزار سال میں لڑائیوں کے سوا کچھ نہیں کیا‘ آپ 2018ء سے ہزار سال پیچھے چلے جائیے‘ آپ کو محمود غزنوی ہندوستان پر ہلے بولتا ملے گا‘ آپ اسپین میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا حال دیکھیں گے‘آپ کو ترکی میں سلجوق تلواریں اٹھا کر پھرتے نظر آئیں گے‘ آپ کو عرب میں انسانی اجسام گلیوں میں بکھرے ملیں گے‘ شیعہ سنی اور سنی شیعہ کے چکر نظر آئیں گے. مسلمان مسلمان کو فتح کر رہا ہو گا‘ مسلمان مسلمانوں کی مسجدیں جلاتے دکھائی دیں گے اورآپ مومن کے ہاتھوں مومنوں کے سروں کے مینار بنتے دیکھیں گے‘ آپ 1018ء سے آگے آتے چلے جائیں‘ آپ کے سارے طبق روشن ہوتے چلے جائیں گے‘ آپ کو مسلمان مسلمان کو مارتے نظر آئیں گے. ہم نے اس کے بعد باقی ہزار سال تک حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کیا‘ عالم اسلام ہزار سال سے نیل کٹڑ سے لے کر کنگھی تک ان لوگوں کی استعمال کر رہا ہے جنھیں ہم دن میں پانچ بار بددعائیں دیتے ہیں‘ آپ کمال دیکھئے‘ہم مسجدوں میں یہودیوں کے پنکھے اور اے سی لگا کر‘ عیسائیوں کی ٹونٹیوں سے وضو کر کے‘ کافروں کے ساؤنڈ سسٹم پر اذان دے کر اور لادینوں کی جائے نمازوں پر سجدے کر کے ان سب کی بربادی کے لیے بددعائیں کرتے ہیں۔ ہم ادویات بھی یہودیوں کی کھاتے ہیں‘ بارود بھی کافروں کا استعمال کرتے ہیں اور پوری دنیا پر

اسلام کے غلبے کے خواب بھی دیکھتے ہیں‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی ہم خود کو دنیا کی بہادر ترین قوم سمجھتے ہیں لیکن ہم نے پچھلے پانچ سو برسوں میں کافروں کے خلاف کوئی بڑی لڑائی نہیں جیتی‘ ہم پانچ صدیوں سے مار اور صرف مار کھا رہے ہیں‘ پہلی ورلڈ وار سے قبل پورا عرب ایک تھا‘ یہ خلافت عثمانیہ کا حصہ ہوتا تھا‘ یورپ نے 1918ء میںعرب کو12ملکوں میں تقسیم کر دیا اور دنیا کی بہادر ترین قوم دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ ہم اگر لڑاکا تھے‘ ہمارا اگر لڑنے کا چودہ سو سال کا تجربہ تھا تو ہم کم از کم لڑائی ہی میں ’’پرفیکٹ‘‘ ہو جاتے اور کم از کم دنیا کے ہر ہتھیار پر ’’میڈ بائی مسلم‘‘ کی مہر ہی لگ جاتی اور ہم اگر دنیا کے بہادر ترین فوجی ہی تیار کر لیتے تو ہم آج مار نہ کھا رہے ہوتے‘ آج کم از کم عراق‘ لیبیا‘ مصر‘ افغانستان اور شام انسانی المیہ نہ بن رہے ہوتے۔ آپ اسلامی دنیا کی بدقسمتی ملاحظہ کیجیے‘ ہم لوگ آج یورپی بندوقوں‘ ٹینکوں‘ توپوں‘ گولوں‘ گولیوں اور امریکی جنگی جہازوں کے بغیر خانہ کعبہ کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے‘ ہماری تعلیم کا حال یہ ہے دنیا کی 100 سو بڑی یونیورسٹیوں کی فہرست میں اسلامی دنیا کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں آتی‘ساری اسلامی دنیا مل کرجتنے ریسرچ پیپر تیار کرتی ہے وہ امریکا کے ایک شہر بوسٹن میں ہونے والی ریسرچ کا نصف بنتا ہے۔ پوری اسلامی دنیا کے حکمران علاج کے لیے یورپ اور امریکا جاتے ہیں‘

یہ اپنی زندگی کا آخری حصہ یورپ‘ امریکا‘ کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں گزارنا چاہتے ہیں‘ دنیا کی نوے فیصد تاریخ اسلامی ملکوں میں ہے لیکن اسلامی دنیا کے نوے فیصد خوشحال لوگ سیاحت کے لیے مغربی ملکوں میں جاتے ہیں‘ ہم نے پانچ سو سال سے دنیا کو کوئی دواء‘ کوئی ہتھیار‘ کوئی نیا فلسفہ‘ کوئی خوراک‘ کوئی اچھی کتاب‘ کوئی نیا کھیل اور کوئی اچھا قانون نہیں دیا۔ ہم نے اگر ان پانچ سو برسوں میں کوئی اچھا جوتا ہی بنا لیا ہوتا تو ہمارا فرض کفایہ ادا ہو جاتا‘ ہم ہزار برسوں میں صاف ستھرا استنجہ خانہ نہیں بنا سکے‘ ہم نے موزے اور سلیپر اور گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم لباس تک نہیں بنایا‘ ہم نے اگر قرآن مجید کی اشاعت کے لیے کاغذ‘ پرنٹنگ مشین اور سیاہی ہی بنا لی ہوتی تو ہماری عزت رہ جاتی‘ ہم تو خانہ کعبہ کے غلاف کے لیے کپڑا بھی اٹلی سے تیار کراتے ہیں۔ ہم تو حرمین شریفین کے لیے ساؤنڈ سسٹم بھی یہودی کمپنیوں سے خریدتے ہیں‘ ہمارے لیے آب زم زم بھی کافر کمپنیاں نکالتی ہیں‘ ہماری تسبیحات اور جاء نمازیں بھی چین سے آتی ہیں اور ہمارے احرام اور کفن بھی جرمن مشینوں پر تیار ہوتے ہیں‘ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان صارف سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے‘ یورپ نعمتیں ایجاد کرتا ہے‘ بناتا ہے‘ اسلامی دنیا تک پہنچاتا ہے اور ہم استعمال کرتے ہیں اور اس کے بعد بنانے والوں اور ایجاد کرنے والوں کو آنکھیں نکالتے ہیں۔

آپ یقین کیجیے جس سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے سعودی عرب کو بھیڑیں دینے سے انکار کر دیا اس سال مسلمان حج پر قربانی نہیں کر سکیں گے اور جس دن یورپ اور امریکا نے اسلامی دنیا کو گاڑیاں‘ جہاز اور کمپیوٹر بیچنا بند کر دیے ہم اس دن گھروں میں محبوس ہو کر رہ جائیں گے‘ ہم شہر میں نہیں نکل سکیں گے‘ یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری اوقات لیکن آپ کسی دن اپنے دعوے سن لیں۔ آپ ان نوجوانوں کے نعرے سن لیں جو میٹرک کا امتحان پاس نہیں کر سکے‘ جنھیں پیچ تک نہیں لگانا آتا اور جس دن ان کے بوڑھے والد کی دیہاڑی نہ لگے اس دن ان کے گھر چولہا نہیں جلتا‘ آپ ان کے نعرے‘ ان کے دعوے سن لیجیے‘ یہ لوگ پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانا چاہتے ہیں‘ یہ اغیار کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں‘ آپ اپنے علماء کرام کی تقریریں بھی سن لیجیے‘ یہ اپنے مائیک کی تار ٹھیک نہیں کر سکتے‘ یہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کا نام بھی اپنے مریدوں تک مارک زکر برگ کی فیس بک کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ یہ لوگوں کو تھوکنے کی تمیز تک نہیں سکھا سکے یہ آج تک ابن تیمیہ‘ ابن کثیر‘ امام غزالی اور مولانا روم سے آگے نہیں بڑھ سکے‘ پورے عالم اسلام میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جو ابن عربی کو سمجھنے کا دعویٰ کر سکے‘ ابن ہشام اور ابن اسحاق بھی ہم تک آکسفورڈ پرنٹنگ پریس کے ذریعے پہنچے تھے اور ابن رشد بھی ہمیں یورپ کے اسکالرز نے سمجھایا تھا لیکن آپ علماء کرام کی تقریریں سن لیں آپ کو محسوس ہو گا نعوذ باللہ‘ نعوذ باللہ پوری کائنات کا نظام مولانا اللہ دتہ چلا رہے ہیں‘ یہ جس دن حکم دے دیں گے اس دن سورج طلوع نہیں ہوگا اور یہ جس دن فرما دیں گے اس دن زمین پر اناج نہیں اگے گا‘ ہم نے آخر آج تک کیا کیا ہے؟ ہم کس برتے پر خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم سمجھتے ہیں! مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔ ہم اگر دل پر پتھر رکھ کر یہ حقیقت مان لیں تو پھر ہمیں پتہ چلے گا ہماری حرام خوری ہمارے جینز کا حصہ بن چکی ھے ۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زبردست اضافہ نوٹیفکیشن بھی جاری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زبردست اضافہ، نوٹیفکیشن بھی جاری۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے اہم اعلان کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں یکم مارچ سے اضافے کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ آئندہ ماہ سے گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک کے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ ملنا شروع ہو جائے گا۔ آئندہ ماہ سے ملازمین کی تنخواہوں کی سلپ میں 25 فیصد اضافے کا باقاعدہ ذکر بھی کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ ماہ وفاق کے ماتحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری کی منظوری دی تھی۔تنخواہوں میں اضافہ کرنے سے 21 ارب روپے سالانہ خرچ آئیگا۔17 وفاقی اداروں پی ایم سیکرٹریٹ، نیب، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ و دیگر کے ملازمین اضافے سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔تنخواہوں میں اضافہ صرف ان ملازمین کیلئے ہوگا جو پہلے سے اضافہ الائونس وصول نہیں کر رہے۔ گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں یکم مارچ سے ایڈہاک بنیادوں پر اضافہ کیا جائے گا، بعدازاں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں یہ ایڈہاک اضافہ بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا جائیگا۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبوں سے اپنے وسائل کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارش بھی کی۔

عمران حکومت کا ایک اور شاہکار :بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے شاندار سہولت متعارف کروا دی گئی

کراچی (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیو نیکیشن سید امین الحق نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے آئندہ انتخابات تک ای ووٹنگ کی سہولت متعارف کرادی جائیگی،وزیر اعظم کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان کے منصوبے پر کاربند ہیں،سٹار ایپس اور فن ٹیک ملک میں غیر ملکی سرمایہ لانے کا باعث ہوتے ہیں۔

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید امین الحق کا کہنا تھا کہ ملک سے آئی ٹی مصنوعات و خدمات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،گزشتہ برس آئی ٹی کے شعبے میں برآمدات کا حجم40فیصد اضافے سے 925ملن ڈالرز رہا جبکہ گزشتہ سے پیوستہ سال کے دوران آئی ٹی بر آمدات1.23ارب ڈالرز رہیں ۔انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستان کو حق رائے دہی دینے کیلئے ای ووٹنگ پر تیزی سے کام جاری ہے، امید ہے کہ آئندہ انتخابات تک ای ووٹنگ کی سہولت متعارف کرادی جائیگی، ملک میں فائیو جی سروس دسمبر2022ء تک متعارف کرادی جائیگی،اس وقت ہماری توجہ فور جی سروس کے پھیلاؤ پر ہے،فور جی سروس کے پھیلاؤ کی موجودہ شرح40فیصد ہےجبکہ ہم اسے50فیصد سےزائدپرلےجاناچاہتےہیں تا کہ فائیو جی کیلئے راہ ہموار کی جاسکے،حکومت نے گزشتہ 31 ماہ کے دوران براڈ بینڈ کی وسعت پر22ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے،اس وقت ملک کی نو کروڑ آبادی کو براڈ بینڈ کی سہولت حاصل ہے جبکہ ہماری خواہش ہے کہ ملک کی تمام آبادی کے پاس سمارٹ فونز ہوں تا کہ ہم ڈیجیٹل معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں،خواتین کو باختیار بنانا ہماری جماعت کا منشور ہے اور ہم اس پر عمل پیرا ہیں۔

اسلام آباد میں تبدیلی کی افواہیں! چوہدری نثار کو کونسی ذمہ داریاں سونپی جانے کا امکان ہے؟ تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ سسٹم میں بڑی تبدیلی کی خبریں افواہوں کی صورت میں سامنے ہیں مگر ان سے متعلق حقیقتاً کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

کیونکہ اسلام آباد کی فضا میں سسٹم میں میاں شہباز شریف یا پھر چودھری نثار کو لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ مگر نواز شریف اس بات پر کبھی بھی راضی نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں نا تو چودھری نثار وارے کھائیں گے اور نہ ہی وہ اپنے بھائی شہباز شریف کے نام کا قرعہ نکالنے پر راضی ہوں گے۔

انہوں نے چونکہ مریم نواز کو لانچ کر نے کے لیے اپنی سیاست کو قربان کیا اس لیے وہ کسی بھی آپشن کو زیرغور نہیں لائیں گے سوائے مریم نواز کے۔مگر چودھری نثار لندن جاتے ہیں یا نہیں ا ور اگر لندن جاتے ہیں تو ا س کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ آمدہ چند دنوں میں واضح ہو جائے گا۔عمران خان صاحب کے پاس کچھ ایسے لوگ ہیں جنہیں وہ خود بھی پسند نہیں کرتے مگر وہ مجبور ہیں کہ حکومت کا سسٹم چلانے کے لیے انہیں ایسے لوگوں کو قبول کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ اندازہ لگائیے کہ جن لوگوں نے اپنا ووٹ بیچااور وہ اب بھی عمران خان کے سامنے بیٹھ کر ان کے نام کے نعرے لگا رہے ہیں تو وہ انہیں کیسے برداشت کرتے ہوں گے۔

عورت مارچ پر بینرز اور گستاخانہ نعروں کا پرچار، حکومت کا ملوث کرداروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کافیصلہ

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے عورت مارچ یپر بینرز اور گستاخانہ نعروں کا پرچار کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کافیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جاری مبینہ گستاخانہ موادکی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں، ملوث کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملوث کرداروں کو بے نقاب کرکے مقدمات دائر کریں گے۔ خیال رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کے حقوق کے لیے عورت مارچ کا انعقاد کیا جاتا ہے،

جس میں پاکستان بھر سے فیمنسٹ نظریے کو سپورٹ کرنے والی خواتین بھرانداز میں سڑکوں پر نکلتی ہیں اور مارچ کا حصہ بنتی ہیں۔ خواتین کے اِن مارچ کے حوالے سے پاکستان میں ہر برس ایک نیا تنازعہ جنم لے لیتا ہے۔ یہ تنازعہ خواتین کی جانب سے عورت مارچ میں اُٹھائے گئے بینرز کی وجہ سے کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستان میں عورت مارچ میں شامل خواتین کو فیمنسٹ نظریے کوسپورٹ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن اِس مرتبہ خواتین نے چند ایسے بینرز اُٹھا رکھے تھے، جنہیں سوشل میڈیا صارفین نے گستاخی کے زمرے میں شامل کر دیا ہے، جس کے بعد وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے ملوث کرداروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

بریکنگ نیوز: عوام پر ایک مرتبہ پھر پیٹرول بم گرانے کی تیاریاں ، فی لیٹر کتنے روپے اضافے کا امکان ہے ؟ پاکستانیوں کی چیخیں نکال دینے والی خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عوام پر پیٹرول بم گرانے کی تیاریاں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے تک اضافہ کا امکان، اوگرا نے سمری حکومت کو ارسال کر دی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور 15 مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی تجویز حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل 6 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں 6 روپے فی لیٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ساڑھے چار روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔خیال رہے کہ یکم مارچ کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آئندہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اوگرا کی جانب سے بھجوائی گئی سمری مسترد کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔انہوں نے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اوگرا نے تقریباً 6 سے 7 روپے فی لیٹر تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی تجویز دی تھی جسے وزیر اعظم نے منظور نہیں کیا تھا۔ واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود وزیراعظم نے ریٹ بڑھانے کی اجازت نہیں دی تھی- تاہم اب ایک مرتبہ پھر اوگرا نے وزیراعظم عمران خان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھجوا دی ہے-

شادی پر شاہ خرچی کی حد کردی گئی منڈی بہائوالدین میں ہیلی کاپٹر سے نوٹ اور پھولوں کی بارش

منڈی بہائو الدین (این این آئی)منڈی بہائوالدین میں شادی کی انوکھی تقریب میں باراتیوں پر ہیلی کاپٹر سے نوٹ اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔منڈی بہائوالدین کے میرج ہال میں آئی بارات میں ہیلی کاپٹر کی انٹری نے فضا میں ہرطرف کرنسی نوٹوں کی بارش کردی۔مقامی شخص

کی شادی کی خوشی میں بیرون ملک سے آئے اس کے بھائیوں نے باراتیوں پر کرنسی نوٹ اور پھول نچھاور کرنے کے لیے خاص طور پر ہیلی کاپٹر کا انتظام کیا تھا۔ہیلی کاپٹر سے کافی دیر تک پھولوں کی پتیاں اور کرنسی نوٹ نچھاور کئے جاتے رہے جس سے فضا میں نوٹ ہی نوٹ بکھر گئے۔