سعودی اقامہ اور ویزا ہولڈرز یہ خبر ضرور پڑھ لیں پھرنہ کہناخبر نہ ہوئی

ریاض(نیو زڈیسک) سعودی عرب میں متعلقہ اداروں نے ایک بار پھر مقامیوں اور غیرملکیوں کے مختلف سوالات پر وضاحتیں پیش کیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک شہری نے پوچھا کہ خروج وعودہ ویزے پر جانے کے لیے کوروناویکسین لگوانا ضروری ہے؟ جس پر وضاحت پیش کی گئی کہ خروج وعودہ یا نہائی پر جانے کے لیے کارآمد ویزا اور فضائی کمپنی کی کنفرم

بکنگ ہونی چاہیے جبکہ ویکسی نیشن کی قید نہیں ہے۔سعودی عرب میں آن لائن پلیٹ فارم ابشر پر مقامی فرد نے سوال کیا کہ ان کے گھریلو کارکن کا اقامہ جاری نہیں ہوا کیا ابھی اس کی کفایت تبدیل کی جاسکتی ہے؟۔ابشتر انتظامیہ نے کہا کہ اقامہ نہ ہونے کی صورت میں کفایت کا ردوبدل ممکن نہیں ہے، ضروری ہے کہ پہلے اقامہ جاری کروایا جائے جس کے بعد کفایت کی تبدیلی کا مراحل طے ہوں گے۔یہ بھی وضاحت کی گئی کہ اقامہ یا ویزٹ ویزے کی توسیع ابشر سے ہوسکتی ہے اور اگر کسی قسم کی مشکلات ہیں تو سروس کی ‘رسائل والطلبات’ آپشن کا رخ کریں، جہاں اپنا مسئلہ بیان کرکے حل نکالا جاسکتا ہے

عمران اینڈ کمپنی 5 سال پورے کر جائے گی یا نہیں ؟

کراچی ( ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نے آج اعتماد کا ووٹ لے کرایک بار پھر اپنی عددی برتری ثابت کردی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ آج پی ڈی ایم نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے بائیکاٹ کیا۔ سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ

پانچ سال پورے کرنا مشکل ہوگا کیونکہ ایک شکاف تو پڑ گیا، شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ یہی پی ڈی ایم پچھلے کچھ مہینوں سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کا دعویٰ کررہی تھی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم جب اعتماد کا ووٹ لے رہے تھے ۔ تو اسمبلی کے باہرپی ٹی آئی کے کارکنوں اور ن لیگ کے پارلیمنٹرینز کے درمیان تصادم جاری تھا۔ ن لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ جن ارکان سے خطرہ تھا ان پر پہرے لگا دیئے گئے تھے،اس تصادم میں افسوسناک مناظر دیکھے گئے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ان16 لوگوں کو نکال دیں گے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں اپنے خطا ب میں الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں الیکشن کمیشن کا جواب سن کر بہت صدمہ ہوا ہے۔ کہ اس نے بہت اچھا الیکشن کروایا ہے اگر یہ اچھا الیکشن ہے تو برا کیا ہوگا۔وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کل ان کی خواتین ایم این ایز کو کالز آرہی تھیں ووٹ نہ دینے پر 2 کروڑ کی آفرز کی گئیں۔پارلیمنٹ کے باہر دونوں طرف سے ایک دوسرے کو دھکے دیئے گئے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،سینیٹر مصدق ملک سے ہاتھا پائی کی گئی۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو جوتا رسید کیا گیا۔سیکریٹری جنرل ن لیگ، احسن اقبال نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کے وزیر خزانہ کو شکست ہوئی ۔ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ یہ

وزیراعظم کی شکست ہے وہ استعفیٰ دیں۔ایک نیا اعتماد کا ووٹ بحیثیت رکن قومی اسمبلی لیں۔پھر صدر مملکت نے بھی اس بات کی تصدیق کردی جب انہوں نے کہا کہ آپ ا عتماد کاووٹ لیں۔عمران خان نے استعفیٰ دینے کے بجائے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے رہنا گوارا کیا تاکہ وہ سرکاری اور ریاستی وسائل کو جھونکیں ۔ ممبرز پر دباؤ ڈالیں یہ بھی میڈیا کو پتہ ہے کہ کس طرح کل پارلیمنٹ لاجز کو گھیر لیا گیا۔ان کے رکن اسمبلی جن سے انہیں خطرہ تھا کہ آزادانہ ووٹ دے سکتا ہے اس کے اوپر پہرے دار لگا دیئے گئے۔ پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ سینیٹ میں پیسہ چلا انہوں نے ووٹ خریدے یہ پیسہ چلا کر جیت گئے، شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ اپنی پوری پارلیمانی پارٹی کو محصور کرکے ان کو وارننگ آمیز خط لکھ کرانہوں نے 178 ووٹ لے لئے تو یہ آزادانہ اعتماد کا ووٹ نہیں ہے۔دو روز پہلے وزیراعظم کو شکست ہوئی ہے۔وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ16 اراکین بکے ہیں۔جو وزیراعظم الیکشن کمیشن کو کہہ رہا ہے کہ ایجنسیوں سے بریفنگ لیں ۔ وہ ایجنسیاں تو وزیراعظم کے ماتحت ہیں پہلے تو ان کو فرض تھا کہ ان سے بریفنگ لیتے ۔اسلام آباد سے وزیر خزانہ کی نشست پر آپ اپنی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہارے ہیں ان کی وجہ سے پورے نظام کو داغدار کررہے ہیں۔ان کی معاشی پالیسیوں پر اراکین اسمبلی نے عدم اعتماد کیا ہے۔معاشی پالیسیوں کی براہ راست ذمہ داری وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی ہوتی ہے۔عمران خان کو کیوں پتا نہ چل سکا

کہ ان کی خواتین اراکین کو کون فون کررہا تھا۔عمران خان اپنے مفاد کے لئے پورے ملک کو بدنام کرتا ہے۔عمران خان الیکشن کمیشن کو پورے سینیٹ الیکشن پر چارج سیٹ کررہے ہیں۔ایک سیٹ جو ہارے ہیں اس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔پارلیمنٹ کے سامنے سیاسی غنڈوں کے ذریعے ہمارے رہنماؤں پر دھاوا بولا گیا۔رہنما پی ٹی آئی، سینیٹر فیصل جاوید نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کافی عرصے سے کہتے رہے کہ خفیہ رائے شماری نہ ہو اوپن رائے شماری ہو ۔ لیکن جب خفیہ رائے شماری ہوئی تو مریم بی بی اور گیلانی کے بیٹے کے بیانات آپ کے سامنے ہیں۔ جہاں فیلڈ تھی وہاں یہ آئے نہیں۔ان کے پاس حکومت گرانے کا بہترین موقع تھا۔جہاں سے ہماری جو سیٹیں بنتی تھیں وہ سب جیتی ہیں۔ ضمیر کی آواز ہوتی تو سینیٹ الیکشن میں ووٹ نہ دینے والے آج بھی ووٹ نہ دیتے۔الیکشن کمیشن کو اختیار ہے وہ کسی کو بھی بلا سکتے ہیں تحقیقات کرسکتے ہیں۔خیبرپختونخوا سے ثبوت آئے تو عمران خان نے20 اراکین کو نکال دیا تھا۔20 اراکین کو نکالنے کی قیمت ادا کرنا پڑسکتی تھی لیکن عمران خان نے ایکشن لیا۔حکومت جاتی ہے تو جائے عمران خان کو کوئی فکر نہیں ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ جب سینیٹ کا الیکشن ہوا ہے اور یوسف رضا گیلانی اکثریت لے گئے ۔بہ نسبت پی ٹی آئی کہ تو اس وقت یہ سوال تو اٹھ کر آگیاکہ ژاور جب ایک دفعہ شگاف پڑ جاتا ہے تو اس کو بھرنا مشکل ہوتا ہے۔آج اعتماد کا ووٹ لے کر ایک رسمی کارروائی تو کی گئی ۔ لیکن ان ہی بندوں وہ بندے بھی موجود تھے جنہوں نے گیلانی کو ووٹ دیا ہے ۔ کل کو عدم اعتماد ہوگا تواس بات کا کیا اعتبار ہے کہ وہ لوگ جاکر پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں مل جائیں گے۔

ہمیں نیا پاکستان نہیں چاہیے ، وہی پرانا پاکستان ہی لوٹا دو ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈٰیسک) نامور صحافی وجاہت علی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یوں تو وفاقی محتسب، فیڈرل کمشنر برائے اوورسیز پاکستانیز اور پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن سمیت کوئی درجن بھر ادارے اور ان کے سینکڑوں ملازموں کی تنخواہیں اوورسیز پاکستانیوں کے نام پر قومی خزانے سے ادا تو کی جاتی ہیں

لیکن ان پاکستانیوں کے لئے نہ تو کوئی سہولت ہے اور نہ ہی ان کی کہیں داد رسی ہوتی ہے۔ ان کی زمینوں، جائیدادوں پر ویسے ہی قبضے ہو رہے ہیں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے یہاں برطانیہ میں ہی ایسے ایسے کیسز موجود ہیں جن لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ گروپوں نے قبضے کر رکھے ہیں ان گروپوں میں حکومتی وزیر، بڑے بڑے وکیل اور با اثر افراد شامل ہیں بہت سے کیسز میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے آرڈرز موجود ہیں کہ یہ جائیداد یا زمین واگزار کروا کے اصل مالکان کو دی جائے لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس خاموش تماشائی ہے۔ 22ارب ڈالر بھیج کر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے تو آج ایک موبائل فون تک اپنے کسی عزیز کے لئے تحفتاً بھی نہیں لا سکتے اس ایک فون پر بھی اس حکومت نے اس قدر ٹیکس لگا دیا ہے جو فون کی قیمت جتنا ہی ہوتا ہے۔ دس پندرہ سال پہلے کی حکومتوں نے پاکستان کے تمام ہوائی اڈوں پر اوورسیز پاکستانیوں کے لئے گرین چینل کی سہولت فراہم کی تھی، گزشتہ حکومت نے تو ایئر پورٹس پر اوورسیز ڈیسک بھی متعارف کروائے تھے، اس نئے پاکستان میںیہ سب سہولتیں اوورسیز پاکستانیوں سے چھین لی گئی ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بنائے گئے اداروں میں لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کا رحجان بام عروج پر ہے، اب جو مشیر برائے اوورسیز پاکستانیز ہے سید ذوالفقار عباس بخاری ان کی کل کوالیفیکیشن وزیراعظم کا دوست ہونا ہے کئی دیگر وزارتوں کا ’بوجھ‘ بھی ان کے کندھوں پر ہے،

تو کیا کوئی اوورسیز پاکستانی کہہ سکتا ہے کہ 80لاکھ پاکستانیوں کے اس مشیر نے دنیا کے 35ملکوں کا دورہ کر کے اُن کے معاملات سنے اور ان کے مسائل حل کئے یا انہیں پاکستان کے ایئر پورٹس پر کوئی سہولت بہم پہنچانے کے لئے کوئی اقدامات کئے؟’’اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں‘‘ جیسے نام نہاد نعرے آئے روز پاکستان کے سیاستدان ہم جیسوں کے لئے لگاتے ہیں لیکن یہ سب نعروں کی حد تک ہی محدود ہیں عملاً کچھ نہیں۔ دیگر ممالک کے حالات کا تو پتا نہیں لیکن اگر برطایہ کی بات کریں تو یہاں بھی پاکستان کا ہائی کمیشن اور اس کے ذیلی ادارے گویاعضو معطل بن چکے ہیں اب حالات یوں ہیں کہ یہاں نہ تو ویزہ کی سہولت ہے نہ پاسپورٹ بنائے جاتے ہیں اور نہ ہی نیکوپ کارڈ بلکہ اگر کسی پاکستانی کو کسی قسم کی ایمرجنسی ہو جائے تو ہائی کمیشن کی طرف سے کوئی مدد بھی ’جوئے شیر لانے‘ کی سی صورتحال ہوتی ہے۔ تمام وہ کام جن کا تعلق کسٹمر سروسز سے ہوتا ہے موجودہ حکومت نے انہیں آن لائن کر دیا ہے۔ اب یہ ایک علیحدہ اور طویل موضوع ہے کہ پھر ہائی کمیشن پر اور کون سا بوجھ ہے جس کا تعلق اس ملک میں آباد پاکستانیوں سے ہے؟ یہ بات محتاج بیان تو نہیں کہ جن پاکستانیوں نے وطن کی معیشت کو 22یا 24ارب ڈالر کا سہارا دے رکھا ہے انہیں اس خدمت کے عوض کچھ نہیں ملتا، کوئی سہولت، کوئی مراعات نہیں۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے

اوورسیز پاکستانیوں سے بہت سے خوش کن وعدے کئے تھے لیکن اقتدار کی غلام گردشوں میں جاتے ہی ان وعدوں کو ایفا کرنے کی بجائے اوورسیز پاکستانیوں کی مزید ’مشکیں‘ کس دی ہیں بلکہ وزیراعظم نے تو اُن برٹش پاکستانیوں سے گزشتہ اڑھائی سال میں ایک بار ملنا بھی گوارہ نہیں کیا جنہوں نے ان کے اقتدار کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا اور جن سے سال ہا سال عمران خان ملینز پائونڈ چندہ جمع کرتے رہے، کیا وہ دن وزیراعظم کو یاد نہیں جب یہاں سے تحریک انصاف کو ووٹ دینے کے لئے اپنے خرچ پر لوگ پاکستان گئے تھے؟ اب حالت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا برطانیہ میں نہ تو کوئی قابل ذکر ونگ ہے جہاں کوئی شکائت کی جا سکے اور نہ ہی سفارتخانے میں کوئی پرسان حال جہاں دادرسی ہو سکے۔ ابھی پچھلے دنوں برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی سے متعلق چند مسائل کے حل کیلئے میں نے خود بھی ایک کوشش کی اور پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر معظم احمد خان کو ایک خط لکھا تھا لیکن دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے اس کا جواب تک دینا مناسب نہیں سمجھا لہٰذا اس قسم کے بیورو کریٹک رویے سفارتکاروں کے آئوٹ آف دی باکس ہونے کی بجائے غیر سنجیدہ ہونے کی طرف اشار ہ کرتے ہیں۔یوں تو اوورسیز پاکستانیوں کو کسی دور میں بھی ان کی خدمات کے مطابق سہولیات نہیں دی گئیں لیکن 2018ء کے بعد والے نئے پاکستان میں تو اوپر دی گئی ’’بلی اور چوہے‘‘ کی مثال صادق آتی ہے چنانچہ ہماری درخواست ہے کہ ہمیں لنڈورا ہی رہنے دیں اور پرانا پاکستان لوٹا دیں

تازہ ترین کالم میں ایاز امیر کی تہلکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جھٹکا لگا لیکن ایسا کہ ہوش اڑ گئے۔ وزیراعظم کے خطاب میں ان کی کیفیت دیکھی جاسکتی تھی۔ ایک تو وہی تقریر جو شروع سے کرتے آرہے ہیں لیکن پہلے سے بھی زیادہ بے ربط۔ کوئی انہیں کہنے والا نہیں ہے

کہ یہ ایک موضوع والی گفتگو سن سن کے لوگوں کے کان پک چکے ہیں۔ اور یہ ہیں کہ انہیں کوئی دوسری بات آتی نہیں۔ وہی پرانی رٹ کہ چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، لوٹی ہوئی دولت واپس لے کے آؤں گا اور این آر او نہیں دوں گا۔ آپ سے کون مطالبہ کررہا ہے کہ ان پرانے لیڈروں کو کوئی رو رعایت دیں۔ مقدمات نیب کے ہیں نیب کو اپنا کام کرنے دیں۔ آپ اپنے کام پہ دھیان دیں لیکن وہ آپ سے ہوتا نہیں ہے۔تقریر میں دھرکے الزام لگا دیا کہ ووٹوں کی خرید و فروخت ہوئی۔ الزام تب جچتا ہے جب کوئی ثبوت بھی ہو۔ ثبوت کچھ ہے نہیں لیکن کس زور سے الزام دہرائے جارہے ہیں۔ انہیں کون بتائے کہ ان کے اپنے ایم این ایز اِن سے اکتائے ہوئے ہیں۔ ملاقات ان کی وزیراعظم سے ہو نہیں پاتی۔ کام ان کے نہیں ہوتے۔ افسر شاہی ان کی بات سنتی نہیں۔ یہ موقع ان کے ایم این ایز کے ہاتھ آیا کہ اپنی بیزاری کاکچھ اظہار کر سکیں اور انہوں نے کر دیا اور جھٹکا ایم این ایز نے ایسا دیا کہ گویا بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔ جسے انگریزی میں کہتے ہیں wakeup call وزیراعظم کیلئے یہ وہ ہے کہ اب بھی سنبھل جاؤاور حکومت کی کارکردگی کو کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرو۔ ورنہ اب تو ڈر لگنے لگا ہے کہ اگلے انتخابات میں کم از کم پنجاب میں ان کا ٹکٹ لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ایک پیج والے بھی کیا کریں۔ ان کی تمام ہمدردیاں عمران خان کیلئے تھیں۔

جو سپورٹ مہیا کرسکتے تھے انہوں نے کی‘ لیکن کارکردگی تو خان صاحب نے دکھانی تھی۔ حکمرانی اِن کی کمزور ہے۔ معاملہ فہم یہ ہیں نہیں۔ مسائل کا ادراک جو حکومت کو ہونا چاہئے وہ نظر نہیں آتا۔ مہنگائی جیسے بھی پیدا ہوئی عوام اِنہیں اس کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔یہ چلے بھی گئے ان کی مہنگائی یاد رہے گی۔2018ء کے الیکشن کے بعد یوں لگتا تھا اپوزیشن جماعتیں مرچکی ہیں۔ پہلے ڈیڑھ سال تو اپوزیشن کہیں نظر بھی نہیں آتی تھی۔پچھلے چھ آٹھ ماہ میں سارا قومی نقشہ بدل چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پھر سے زور پکڑ رہی ہیں اور پی ٹی آئی حکومت کمزور لگ رہی ہے۔کمزور اس لئے کہ ان کی حالات پہ گرفت نہیں۔وزیراعظم میں سیاسی سوجھ بوجھ کچھ زیادہ ہوتی، ان کی حکومت کی کارکردگی کچھ بہتر ہوتی، تو کہاں سے مریم نواز نے اتنا چنگھاڑنا تھا اور کہاں سے حمزہ شہباز جیسے آدمی نے ایک نئے لیڈر کے روپ میںسامنے آنا تھا۔ لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ ن لیگ کی اگلی پود کی راہ ہموار کررہے ہیں۔جو صورتحال بن چکی ہے اس کا صحیح احاطہ تو نور جہاں کے اس پرانے گانے سے ہوتا ہے ”غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا، تمام رات قیامت کا انتظار کیا‘‘۔ عمران خان وزیر اعظم بنے تو قوم کسی قیامت کی منتظر تھی۔ سادہ لوح لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوچ بیٹھ چکی تھی کہ عمران خان آئیں گے اور زمین ہل جائے گی۔ لٹیروں کا حساب ہوگا، انصاف کا بول بالا ہو گا۔ مسائل کا ادراک ہو گا اور راتوں رات پاکستان ترقی کی منزلیں طے کرنے لگے گا۔

قوم کے تصورات یا قوم کے نہیں یوں کہئے مڈل کلاسیوں کے تصورات ہمالائی تھے۔ لیکن جو نکلا ہے اس سے مڈل کلاسیوں کے دل بیٹھ گئے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ آگے ہو گا کیا۔ ڈھائی سال میں عمران خان سے کچھ ہوا تو نہیں لیکن ابھی سے تھکے ہوئے لگنے لگے ہیں۔ یہی تاثر اِن کے حالیہ خطاب سے ملتا ہے۔ بات کہنے کو کچھ تھی نہیں بس ایک لحاظ سے رونا روئے جا رہے تھے۔ اِدھر الزام اُدھر الزام لیکن اپنی نا سمجھی اور کمزوریوں کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ اور تو اور چیف الیکشن کمشنر ان کی تائید سے چنے گئے۔ زیادہ کچھ کہنا مناسب نہ ہوگالیکن جو ن لیگ کے وسیع تر تعلقات کے بارے میں تھوڑی سی جانکاری بھی رکھتے ہیں وہ شاید اس انتخاب کی حمایت نہ کرتے۔ لیکن مردم شناسی تو یہ حکومت پہلے دن سے نہیں دکھا سکی۔ انہیں سمجھ ہی نہ تھی کہ کس کو کہاں لگانا ہے۔ ان کے چیف منسٹروں کی بات رہنے دیجئے۔ عثمان بزدار یا محمود خان کا کتنی بار ذکر کیا جائے ؟ لیکن حکومت آپ کے ہاتھ ایک طویل سفر کے بعد آرہی تھی۔جو آپ کے سیاسی حریف ہیں ان کی پنجاب میں جڑیں بہت گہری اور مضبوط تھیں۔ ہر جگہ انہیں کے پرانے وفادار لگے ہوئے تھے۔ اس صورت حال کے پیش نظرہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایک مضبوط اور سیاسی طور پہ شاطر انسان پنجاب کا منصب دا ر لگتا۔لیکن آپ کی نگاہ ِکرم ٹھہری بھی تو کس پہ۔یہاں بات بھلے یا برے آدمی کی نہیں۔

بات حکمرانی کی ہے۔ کہ جس کو آپ نے چنا اس کی حکمرانی کے حوالے سے صلاحیت کتنی تھی۔ لیکن چھوڑیئے، یہ بات کتنی بار دہرائی جائے ؟شاعر نے تو کہا تھا کہ مینا و ساغر کو کیا بدلنا،بدلنا ہے تو مے کو بدلئے۔ یہاں پہ تو بات ہی اور ہے، مے بدلنا تو دور کی بات ان سے ساغر و مینا تبدیل نہیں ہوئے۔تقریر والی بات کو ہی لے لیجئے۔ کچھ انداز بیان تو مختلف کیجئے۔ کچھ نئے تصورات اپنی گفتگو میں لائیے۔ میڈیا کاایک بڑا حصہ آپ کا ڈھنڈورچی بنا ہوا تھا، آپ کی تعریفوں کے پل باند ھ رہا تھا۔وہ ڈھنڈورچی بھی بیچارے تھک ہار کے بیٹھ گئے ہیں۔ کیونکہ وہی بات ہوئی ہے جو تاریخ میں اکثر ہوتی رہی ہے کہ کسی کو آپ نے دیوتا بنا دیا اور جب وقت آیا تو دیکھا کہ دیوتا کے پیر مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں تاریخ میں پہلی بار مڈل کلاسیوں اور پروفیشنل طبقات نے کسی پہ سیاسی اعتماد کیا۔ یہ لوگ تو سیاست سے دور رہتے تھے، کبھی ووٹ ڈالنے کی بھی زحمت نہیں کرتے تھے۔ عمران خان سے وابستہ امیدیں انہیں سیاست کے ریگزار میں کھینچ لائیں۔عمران خان کے مبینہ طلسم نے انہیں ووٹ ڈالنے پہ مجبور کیا۔ لیکن دو ڈھائی سال میں سب امیدیں بکھر گئیں۔ اِن مڈل کلاسیوں نے سیاست سے پھر کنارہ کشی اختیار کی تو واپس لوٹ کے نہ آئیں گے۔ سیاست کے شاہسوار پھر وہی پرانے لوگ ہوں گے، سندھ میں زرداریوں کی حکمرانی اور پنجاب میں شریفوں کی اجارہ داری۔عمران خان سے توقعات تو یہ تھیں کہ ماڈرن سیاسی تصورات لے کے آئیں گے۔ کچھ بنیادی قسم کی اصلاحات کی طرف توجہ دیں گے۔ لیکن ان کو سن کے لگتا یوں ہے کہ ان کے پاس کوئی سیاسی خیالات ہیں ہی نہیں۔ سیاسی گفتگو میں مذہب کو لے آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مذہبی ذکر یا مذہبی حوالوںکی کوئی کمی ہے کہ آپ اسے پورا کررہے ہیں؟بہرحال خواب بیگانگی میں رہتے ہوئے انہیں جھٹکے کی ضرورت تھی اور وہ جھٹکا انہیں لگا۔ اب تو سینیٹ کی چیئرمینی بھی داؤ پہ لگی ہوئی ہے۔ اُس انتخاب میں بھی ووٹنگ خفیہ ہو گی۔ خفیہ ہوئی تو پھر سے کمالات ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو منہ کہاں چھپائیں گے اور کیا عذر پیش کریں گے؟ صادق سنجرانی سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے تو اس میں اندھیروں کی مدد نے کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن خود آپ سے کچھ نہ ہو تو اندھیرے کیا اجالے بھی آپ سے بیزار ہو جاتے ہیں۔

دکھوں کا سمندر اور ایک چٹکی نمک ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈٰکس) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک نوجوان اپنی زندگی کے معاملات سے کافی پریشان تھا۔اک روزایک درویش سے ملا قات ہو گئی تواپنا حال کہہ سنایا۔ کہنے لگا کہ بہت پریشان ہوں۔ یہ دکھ اور پریشانیاں اب میری برداشت ہے باہر ہیں۔

لگتا ہے شائد میری موت ہی مجھے ان غموں سے نجات دلا سکتی ہے۔درویش نے اس کی بات سنی اور کہا۔۔ جاؤ اور نمک لے کر آؤ۔۔نوجوان حیران تو ہوا کہ میری بات کا نمک سے کیا تعلق پر پھر بھی لے آیا۔درویش نے کہا۔۔پانی کے گلاس میں ایک مٹھی نمک ڈالو اور اسے پی لو۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا تو درویش نے پوچھا:اس کا ذائقہ کیسا لگا؟نوجوان تھوکتے ہوئے بولا۔۔بہت ہی خراب، ایک دم کھارا ۔۔درویش مسکراتے ہوئے بولا۔۔اب ایک مٹھی نمک لے کر میرے ساتھ اس سامنے والی جھیل تک چلو۔صاف پانی سے بنی اس جھیل کے سامنے پہنچ کر درویش نے کہا۔۔چلو اب اس مٹھی بھر نمک کو پانی میں ڈال دو اور پھر اس جھیل کا پانی پیو۔نوجوان پانی پینے لگا، تو درویش نے پوچھا۔۔ بتاؤ اس کا ذائقہ کیسا ہے، کیا اب بھی تمہیں یہ کھارا لگ رہا ہے؟نوجوان بولا۔۔نہیں، یہ تو میٹھا ہے۔ بہت اچھا ہے۔درویش نوجوان کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔ہمارے دکھ بالکل اسی نمک کی طرح ہیں۔ جتنا نمک گلاس میں ڈالا تھا اتنا ہی جھیل میں ڈالا ہے۔ مگر گلاس کا پانی کڑوا ہو گیا اور جھیل کے پانی کو مٹھی بھر نمک سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی طرح انسان بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق تکلیفوں کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں۔ جب تمھیں کوئی دکھ ملے تو خود کو بڑا کر لو، گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ۔اللہ تعالی کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ اس لئے ہمیں ہمیشہ یقین رکھنا چاہیے کہ جتنے بھی دکھ آئیں ہماری برداشت سے بڑھ کر نہیں ہوں گے۔ اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔دولتمندلوگ لڑکیوں کی نظر میں کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

پیر و مرشد نے مرید کی شادی عورت کے بجائے خواجہ سرا سے کروا دی جب مرید کو پتہ چلا تو پھر کیا ہوا ؟ ایک انوکھا اور دل دہلا دینے والا واقعہ

پاکستان کے پنجاب کے ایک علاقہ جہلم میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا ہے ۔ یہاں ایک شخص کا نکاح خواجہ سرا سے کرادیا گیا ۔ پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حال ہی میں سجاد نام کے ایک شخص کی شادی نازیہ کے ساتھ ہوئی تھی ۔ میڈیا رپورٹس جھیلم کے علاقہ کالا گجراں کے سجاد کی شادی دو دن قبل سوہاوہ کی نازیہ سے ہوئی تھی ۔جب رسمیں پوری ہونے کے بعد دولہا اپنی بیوی کو گھر لے کر آیا تو سہاگ رات میں اس کو پتہ چلا کہ اس نے جس سے شادی کی ہے ، وہ ایک خواجہ سرا ہے ۔

یہ دیکھ کر دولہا کے ہوش اڑ گئے ۔ تاہم شرمندگی کے مارے دولہا کسی کو بتا نہ سکا اور شیڈول کے مطابق ہی ولیمہ بھی کردیا ۔بعد میں ولیمے کی تقریب کے بعد خواجہ سرا دلہن کو اس کے مائیکہ بھیج دیا گیا ۔ یہی نہیں دلہن پہلے بھی مطلقہ تھی ۔تاہم جب رشتہ داروں نے دولہن کو اتنی جلدی مائیکہ بھیجنے کی وجہ پوچھی تو دولہا کو اصل وجہ بتانی پڑگئی ۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیوی لڑکی نہیں بلکہ خواجہ سرا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دولہا سجاد کا کہنا ہے کہ پندرہ ماہ پہلے پہلی بیوی کی وفات کے بعد اس نے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے دوسری شادی کی تھی ۔دولہا نے بتایا کہ گھر آکر معلوم ہوا کہ دلہن لڑکی نہیں خواجہ سرا ہے ۔ دلہن کے خواجہ سرا ہونے کے انکشاف کے بعد اس نے نازیہ کو اس کے میکے بھیج دیا ہے۔پاکستانی میڈیا رپورٹس میں دولہے کے قریبی ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ یہ رشتہ دونوں کے پیر نے کرایا تھا جس کی وجہ سے زیادہ چھان بین بھی نہیں کی گئی تھی ۔بچوں کی دیکھ بھال اور ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پیروں نے ہی شادی کا مشورہ دیا تھا۔

وہ وقت جب ایک ا مام مسجد کو لاوڈ سپیکر میں کونسلر کی تعریف نہ کر نے پر ہیرا منڈی لاہور کی ایک مسجد میں تعینات کر دیا گیا۔۔۔

دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورہ کے امیر محلے کی جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی۔ وجہ یہ تھی کہ میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے

سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظہار افسوس کرتا تھا۔محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی۔ تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولاقبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا’پھر اللہ بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کے امامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی. اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا. اور پھر ہمارے کونسے کوئی بچے ہیں کے ان کے بگڑنے کا ڈر ہو۔بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ھوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا. بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کے شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود اللہ نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا. خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی. جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الٰہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے

کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی۔ سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے اللہ کا نام لیا اورلاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے. بادامی باغ اڈے پے اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی۔ ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عوض لے جانے کی حامی بھری۔ تانگہ چلا تو کوچبان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کہہ کر کیا کے ‘میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں۔پندرہ بیس منٹ میں ہم پہنچ گئے. دوپہر کا وقت تھا۔ شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے کرتوں کے غلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پے مڈلاتی بے حساب مکھیاں،سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں، فرق تھا تو صرف اتنا کے پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں۔ دوکانیں تو بند تھیں مگران کے پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے۔مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی عید ہوگئی۔ پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں. ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پے اٹھا لیا.’’ابے نیا مولوی ہے‘‘بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی

ہوگا’ کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟‘ہاں ہاں سہی کہتی ہے تو داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک،عجیب طوفان بدتمیز تھا۔ مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو۔ اس سے پہلے کے میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شبیر کو جومولوی صاحب، مولوی صاحب کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا. پتہ چلا کے مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا۔ بھائی طبیعت خوش ہوگئی اس سے مل کے، دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد، لمبی سفید داڑھی،صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پے چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا، پیشانی پے محراب کا کالا نشان، سر پے سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں،سادہ اور نیک آدمی اور منہ پے شکایت کا ایک لفظ نہیں، بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا ۔ سامان سنبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے۔گھر کیا تھا دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل۔ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن. بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا۔بہت تھا ہمارے لئے، بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی۔ دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا۔

گھر ٹھیک کرنے میں غلام شبیر نے بہت ہاتھ بٹایا۔ صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک۔ تھوڑا کریدنے پے پتا چلا کے یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا۔ بس تنخواہ کے نام پے غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا۔یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی۔ ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی۔ سو ایک دن غلام شبیر سے پوچھ ہی لیا۔ میاں یہ بتاؤ کے پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟ وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کے بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی۔محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے۔ بس دل آ گیا ایک لڑکی پے۔لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو۔ پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھانے کی کوشش کی، پھر ڈرایا دھمکایا لیکن مولانا نہیں مانے۔ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی۔بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے۔ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کے مولانا جان سے گئے’. غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی۔پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا۔غلام شبیر ہنسنے لگا۔کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی۔ پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے۔ بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب۔ اور

ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے لاحول ولا قوّت الا باللہ ،کہاں اس جہنم میں پھنس گئے۔’ میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا‘۔ آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھائیں۔ دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے ان کو قران پڑھا دیں باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں.’ غلام شبیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آئی۔انہی شروع کے ایام میں ایک واقعہ ہوا۔ پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پے کسی نے دستک دی. غلام شبیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا۔ میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا ’نوراں نے کھانا بھجوایا ہے، پڑوس میں رہتی ہے‘ میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا۔سوچا ہوگی کوئی اللہ کی بندی اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے۔بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتائے احسان کیے جا رہی ہے۔عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھامیاں غلام شبیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا

ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآئے۔غلام شبیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر’ میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں،میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پے‘ میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی!پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ۔غلام شبیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا:میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں ان کے ہاتھ کا نہیں کھائیں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں۔یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا’ہم شریف لوگ ہیں غلام شبیر ،بھوکے مر جائیں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھائیں گے‘۔میرے تیور دیکھ کر غلام شبیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سے نوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا۔جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کے اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹبی مسجد کے نام سے مشہور تھی۔ ایک دن میں نے غلام شبیر سے پوچھا کے ‘‘میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟’’ وہ ہنس کر بولا۔ میاں جی اللہ کے گھر کا کیا نام رکھنا؟پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا، سب مسجدوں کا ہوتا ہے’’ میں کچھ کھسیانا ہو

کے بولا‘‘بس میاں جی بہت نام رکھے جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں.’’ وہ سر کھجاتا ہوا بولا.میں سوچ میں پڑ گیا۔ گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ ‘‘کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا۔ گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی۔’’ دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگائے میری منتظر تھی ۔اب بات ہوجائے قرآن پڑھنے والے بچوں کی، تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے،ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے۔ تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے۔نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے۔ دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے. کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا۔قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی لیکن بس تھوڑازیادہ شرارتی تھا۔تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا۔ بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا،میں بھی درگزر سے کام لیتا کے چلو بچہ ہے لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا.

غلام شبیرسے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھائیں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا. درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا. نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا۔ کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو۔ جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گئیں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری،میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی۔خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شبیر کو آواز دی وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا۔خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی۔مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نا لگے۔خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پے پہنچا ہی تھا کے چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔ میں نے دیکھا کے وہ عورت دہلیزپر کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی ۔چالیس پینتالیس کا سن ہوگا، معمولی شکل و صورت، سانولا رنگ اور چہرے پے پرانی چیچک کے گہرے داغ، آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرما،زیور کے نام پے کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں

اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ، چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپل ،کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟’’ میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا!میں نوراں ہوں مولوی صاحب’’ اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا۔نوراں؟ نوراں کنجری؟’’ میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی۔ میں نے ادھر ادھر غلام شبیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھرچھوڑنےکے بہانے نجانے کہاں غائب تھا۔ جی. نوراں کنجری!’’ اس نے نظریں جھکائے اپنے نام کا اقرار کیا۔مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پے شرمندگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کے وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی ذمہ دار،شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں۔پھر اچانک مجھے احساس ہوا کے میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا۔ باہر نکل کے کھڑی ہو۔ مسجد کو گندا نا کر بی بی، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا۔اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کے جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نا ہو۔ ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی ان کہی فریاد کی لو بھڑکی لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گی،میں نے بھی نا روکا

کے پتا نہیں کس ارادے سے آئی تھی۔ اتنی دیر میں غلام شبیر بھی پہنچ گیا۔کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟’’ غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا۔نوراں کنجری تھی،پتا نہیں کیوں آئی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کے آئندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی.’’ میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آئی تھی میاں جی! نبیل کی ماں ہے ، بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا۔’’غلام شبیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا۔تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے۔ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی، جیسی ماں ویسا بیٹا! میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی۔ ایک لمحے کو خیال بھی آیا کے بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی مگر پھر اپنے استاد ہونے کا خیال آیا تو سوچا کے بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے کیا ہوا اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کےمسجد کے امام سے شکایت کر سکے۔کتنے بچے ہیں نوراں کے؟’’ میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی‘‘۔مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی! اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے۔بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو

مسجد بھیجتی ہے۔ باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں۔’’ غلام شبیرکی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی، میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کے کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی۔ خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی۔ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی۔اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا، گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا رانگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آئی گئی ہو گئی۔ یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے۔ عشاء پڑھا کے میں غلام شبیر سے ایک شرعی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگئی۔ مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی۔ بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی۔ پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا۔اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی۔وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی۔آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا۔ گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پے اونچا جوڑا، جوڑے میں پروئے موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے

کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت لاحول ولا قوت اللہ باللہ’’ میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبیر کی جانب دیکھا۔ آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا۔ چھوڑئیے میاں جی! عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم۔’’ اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا۔یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی؟’’ میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا۔میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں۔ دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے۔’’ غلام شبیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا۔استغفراللہ! استغفراللہ!’’ میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کے مجھے احساس ہو چکا تھا کے غلام شبیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا ۔ اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت اللہ کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا۔ اس غریب کی بڑی خواہش تھی کے وہ اور میں اللہ اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں. میرا بھی من تھا کے کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجائے۔ نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں۔ زوجہ کا ایک بھانجا انہی دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا۔

اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی۔ کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کے غلام شبیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھائے پہنچ گیا۔میاں جی!ایک کام تھا آپ سے۔ اجازت دیں تو عرض کروں.’’ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا‘‘ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں!کیا بات ہے؟’’ میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں۔’’ اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھائے۔ دیکھو میاں غلام شبیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آئے؟’’ میں نے کچھ برہمی سے پوچھا۔نہیں نہیں میاں جی! آپ غلط سمجھے۔ یہ میری درخواست نہیں ہے۔نوراں کی ہے۔’’ اس نے سہم کر کہا،کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ.’’ میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گئی یہ واہیات بات سن کر میاں جی! طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے اور وہ تو اللہ کا گھر ہے وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے۔ اس کے لئے سب ایک برابر’’ اپنی طرف سے غلام شبیرنے بڑی گہری بات کی‘‘۔اچھا؟ اللہ جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو ،سیدھا اللہ تعالیٰ کو ہی بھیج

دے’’ میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا‘‘۔زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور اللہ کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گئی ،ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے۔ اللہ کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے،احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے. اللہ کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا۔فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا،بہت رش تھا، ہزاروں لاکھوں لوگ،ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر۔گرمی بھی بہت تھی۔ میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا۔ زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی۔ اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کے میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا۔ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ہوا ا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا۔ عجب حالات تھے کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا. ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا۔ میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا۔میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا۔ ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری۔ موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی۔ میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بند کی ہی تھیں کے کسی اللہ کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا۔ میں نے سانس درست کی اور

اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی۔ مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی۔ کیا دیکھتا ہوں کے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی۔یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گئی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب!ایک آہنی گرفت تھی۔ میں نہیں چھڑا سکا وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گئی۔ اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی۔اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی۔ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گئی۔ میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے۔کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے۔بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں۔ جانے کون سی نیکی کام آ گئی ، میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی۔ میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آگئی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا۔ اس نے حیرانگی سے کہا۔ ارے نہیں! نوراں ہی تھی۔ میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی۔ بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمِ غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے۔ خدا خدا کر کے حج پورا ہوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس

روانہ ہوے۔ لاہور ائیرپورٹ پر غلام شبیر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا۔بہت مبارک باجی، بہت مبارک میاں جی،بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا۔ اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گئی۔ میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پے تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا۔ ٹیکسی میں بیٹھے،میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا۔ میاں غلام شبیر! نوراں کی سناؤ’ میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا‘۔ اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟’ اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا‘ بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں۔’ میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا۔ مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مذاق نا کریں میاں جی!نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہو گئی تھی’ اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا،قتل ہوگئی تھی؟’ میں نے اچھنبے سے پوچھا!جی میاں جی، بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے۔ اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو۔ ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی۔شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے، پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے۔ ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں۔

آج صبح ہی تدفین کی اس کی۔’ غلام شببر کی آواز آنسوؤں میں بھیگ رہی تھی۔ قاتل کا کچھ پتا چلا؟’ میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا۔پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کے طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈے۔ اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے، میں اور دو گورکن۔’ اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا‘۔ اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟’ میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا‘ نوراں کے بچے نہیں ہیں میاں جی!’ غلام شببر نے مرے کان میں سرگوشی کی۔طوائفوں کے محلے میں جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے۔وہ سب ایسے ہی بچے تھے۔ نوراں سب جانتی تھی کے کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے۔ بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی۔ کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں۔غریب جتنا بھی کماتی بچوں پے خرچ کر دیتی۔بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پے جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے، وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا۔یہ بتاؤ غلام شبیر ،جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟’ مجھ پے حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے۔بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھائے اور کہنے لگی کے بس تو ہی اس کنجری کو بلائے تو بُلا لے’.

مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا۔ تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی۔ ہوا کے دوش میری خطائیں اڑرہی تھیں۔گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں۔ آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو۔’ غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوؤں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا۔کیا کہوں !غلام شببر کہ کیوں روتا ہوں۔ وہ ناپاک نہیں تھی۔ ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں۔ نوراں تو اللہ کی بندی تھی۔ اللہ نے اپنے گھر بلا لیا۔’’ میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شبیر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا‘‘۔ ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اترا ہی تھا کے نوراں کے دروازے پے نظر پڑی۔ ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں۔کیا بات ہے غلام شبیر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟ میاں جی !میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آئے ہیں۔ وہ ہی لوگ بچوں کو لے کر جائیں گے۔ ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے۔’ غلام شببر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شبیر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔کہاں چلے میاں جی؟’ غلام شبیر نے حیرانگی سے پوچھا‘نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں۔ آج سے وہ میرے بچے ہیں اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے۔ آج سےاس کا نام نور مسجد ہوگا ۔شہریار خاورایک مشہور لکھاری اور آرٹسٹ ہیں جو عزت، برداشت اور آزادی رائے پر یقی رکھتے ہیں۔

پروفیسر کے سوال کا محمد علی جناح نے کیا جواب کیوں دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) قائداعظم جب لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک انگریز پروفیسر ’’پیٹرز‘‘ ان سے شدید نفرت کرتے تھے‘ ایک دن پروفیسر ڈائننگ روم میں لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے‘ پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور اس نے جنا ح کو کہا

’’کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے؟‘‘۔ جناح نے پراطمینان لہجے مںے جواب دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں I will fly to other table‘‘جناح کے اس جواب پرپروفسرں کو بہت غصہ آیا اور اس نے انتقام کا فیصلہ کر لیا‘ اگلے ہی دن پروفیسر نے جناح سے سوال کیا کہ اگر تم کو راستے میں دو بیگ ملیں اور ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہو تو تم کس کو اٹھاؤ گے؟ جناح نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ ’’دولت‘‘۔ جناح کے اس جواب پر پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو ’’دانائی‘‘ والے بیگ کو اٹھاتا۔ جناح نے جواب دیا کہ ’’ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی‘‘۔

یہ بولنے ہی نہیں دیتیں۔۔۔شوہروں کی بولتی بند کردینی والی اداکارائیں

کہتے ہیں شادی کے بعد ویسے بھی بڑے بڑے مرد بیگم سے پوچھ کر ہی اپنی زندگی کے فیصلے کرتے ہیں۔۔۔اچھی بات ہے لیکن کچھ مردوں کی تو بیگم کے آگے بولتی ہی بند ہوجاتی ہے۔۔۔ قیصر خان نظامانیفضیلہ قیصر اور قیصر خان نظامانی کی شادی کو یوں تو کئی سال گزر چکے ہیں اور ان کے دونوں بیٹے بھی وکیل بن چکے ہیں۔۔۔لیکن آج بھی قیصر خان کا کوئی وکیل نہیں ان کی بیگم کے سامنے۔۔۔انہیں ہار ماننی ہی پڑ جاتی ہے۔۔۔فضیلہ کچھ بھی نہیں چھپاتیں اپنے رشتے کے حوالے سے اور صاف بتاتی ہیں کہ قیصر کے اندر بھی ایک وڈیرا ہے جو صرف مجھے دکھائی دیتا ہے۔۔۔قیصر خان کو اسکرین پر دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ بیگم کے آگے کچھ بولنے کی ان میں جرات ہی نہیں۔۔۔دونوں بہت خوش مزاج ہیں لیکن فضیلہ قیصر کا غصہ بہت خطرناک ہے۔۔۔قیصر خان کا کہنا ہے کہ میں نے جب پہلی بار فضیلہ کو گھر چھوڑا فاطمہ ثریا بجیا کے کہنے پر تو اسی وقت سوچ لیا کہ یہ میری ہمسفر ہوں گی۔۔۔جبکہ فضیلہ نے بتایا کہ قیصر نے مجھے گھر چھوڑا اور اپنے دوست کو کال کرکے بتایا یار میں نے آج فضیلہ قاضی کو گھر چھوڑا۔۔۔

 فہد مرزافہد مرزا کی شادی ثروت گیلانی سے ہوئی اور دونوں بہت ہنسی خوشی زندگی کی گاڑی چلا رہے ہیں اور دونوں کے دو بیٹے ہیں۔۔۔فہد کو اکثر شوز میں سچ بولتے دیکھا گیا ہے اور جہاں وہ مظلوم بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی بیگم ثروت انہیں آنکھیں دکھا دیتی ہیں اور فہد کی بولتی بند ہوجاتی ہے۔۔۔فہد مرزا اپنی بیگم کی خفگی سے کافی ڈرتے ہیں اور ایک شو سے پہلے بھی گھر جا چکے ہیں بیگم کی وجہ سے۔۔۔فہد مرزا ویسے تو کاسمیٹک سرجن ہیں لیکن ان کے اپنے چہرے کی لائنز صاف بتاتی ہیں کہ بیگم کا خوف کتنا ہے

 معین خانکرکٹر معین خان کی بولتی بیگم کے سامنے بالکل بند ہوجاتی ہے۔۔۔دونوں میں اب تو خاصی دوستی ہے لیکن جب بیگم بات کرتی ہیں تو ان کے آگے خاموشی راج کرتی ہے۔۔۔وہ کچھ بولنے سے قاصر ہوجاتے ہیں کیونکہ بیگم کے سامنے اگر کوئی سچ منہ سے نکل آیا تو پریشانی بھی ہوسکتی ہے-

پاوری پاپڑ، پاوری چپل اور ۔۔۔۔ جانیئے مشہور پاوری گرل کے نام سے کون کون سی چیزیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں

پاوری گرل دنانیر کے چرچے پاکستان میں ہر جگہ آپ کو نظر آتے ہیں، کچھ مشہور بھارتی سلیبریٹیز بھی پاوری گرل کے انداز کو اپناتے ہوئے ان کی شہرت کی بڑی وجہ بنے ہیں۔ مگر چونکہ پاکستان میں جب کوئی ایک چیز سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے، کوئی انسان یا کوئی ڈائیلاگ تو اس سے مختلف دیگر چیزیں بھی لازمی بنائی جاتی ہیں۔ اب جیسے آپ یہ ہی دیکھ لیں کہ پاوری گرل کے نام سے مارکیٹ میں کیا کیا چیزیں مشہور دستیاب ہوگئی ہیں۔

پاوری پاپڑ:

سب سے پہلے پاوری پاپڑ مارکیٹ میں آئے ہیں، آپ بھی ان کو کھائیں اور پاوری گرل کی طرح پاوری کرتے جائیے۔ بس 5 روپے میں پاوری پاپڑ مل جائے گا۔

پاوری چپل:

پاوری چپل کو پہننا نہ بھولیں،مخلتف آن لائن ویب سائٹس پر پاوری سلیپرز آپ کو مناسب داموں میں مل جائے گا، تو ان کو پہننا نہ بھولیں۔

پاوری شرٹ:

پاوری شرٹ پہنیں، دنانیر کے انداز میں پاوری کرتے جائیے۔ ان ٹی-شرٹس اور کرتیوں کو بھی مارکیٹ میں بڑی تعداد میں لوگ خرید رہے ہیں۔